افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں، کور کمانڈرز کانفرنس

pic 718d0 1790944133.jpg 1

ہندوستان کے آلہ کار کے طور پر دہشتگردی کے سنگین نتائج کی ذمہ دار صرف اور صرف طالبان کی مخبوط الحواس قیادت ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لئے زمینی کارروائیوں کے ساتھ بہترین انتظامی اور گورننس کے اقدامات ناگزیر ہیں، شرکاء کور کمانڈرز کانفرنس

pic 718d0 1790944133.jpg

راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

شرکاء نے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔ فورم کے مطابق ہندوستان کے آلہ کار کے طور پر دہشتگردی کے سنگین نتائج کی ذمہ داری طالبان کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

کانفرنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری کامیاب انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو سراہا گیا۔

شرکاء نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے زمینی کارروائیوں کے ساتھ مؤثر انتظامی اور گورننس اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ گورننس کو بنیادی سطح پر عوام کے قریب لایا جائے اور دہشتگردی کی وجوہات اور محرکات کے حوالے سے عوام کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری اور بیانیے پر کام کیا جائے۔ شرکاء نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مخصوص عناصر کے زیر سایہ چلنے والے کرائم ٹیرر گٹھ جوڑ کو توڑنا اور پولیس کی استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے۔

فورم نے پاکستان کے لیے داخلی استحکام کو انتہائی اہم قرار دیا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی بھی جواز پر پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو فیصلہ کن طاقت اور قانون کے ذریعے بلاامتیاز اور بلاجھجھک نمٹا جائے گا۔ فورم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا اور اسے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ میں اہم قرار دیا۔

شرکاء نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور حرمین شریفین کے تحفظ و تقدس کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے حصول، تربیت اور تمام جنگی جہتوں کے انضمام کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں