لانگ مارچ کے بعد مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے کیوں نہیں کرتے؟. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی سنیئرصحافیوں سے ملاقات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کردی ہے پشاور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے بعد مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے کیوں نہیں کرتے، 7 دن میں وفاقی حکومت مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو افہام و تفہیم سے کرلے، چاہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو جائے.
سہیل آفریدی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے پاس آجائیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے، سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ تھوڑا وقت دیا جائے، لانگ مارچ میں تاخیر بھی حکمت عملی کا حصہ ہے وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ کی کال سے پہلے ہی مذاکرات کا کہا تھا، احتجاج کرنے پر وزارتِ اعلیٰ کی کرسی چلی گئی تو فرق نہیں پڑے گا، 4 اکتوبر کو مارچ کا فیصلہ اٹل ہے.
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے لانگ مارچ موخر کرنے کو سیاسی حکمت عملی قرار دیا ایک بیان میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے، حکومت ٹی وی چینلز پر مذاکرات کرتی ہے، عملی طورپر بات چیت کرے تو پی ٹی آئی تیار ہے، وفاقی حکومت کو مذاکرات پر آنا ہی پڑے گا. انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جاسکتی، پولیس ایکٹ صوبے کا اختیار ہے، چاہتے ہیں پولیس آزاد ہو، اس لیے قانون سازی کی شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے عمران خان کو عدالتی احکامات کی روشنی میں علاج فراہم کیا جائے.

