مذکرات میں عمران خان سے ملاقات اوران کی بہنوں کی رہائی کا معاملہ بھی زیربحث آیا

pic b6316 1788274984.jpg 1

کوئی ابہام نہ ہو اس لیے فیصلہ کیا گیا صرف بیرسٹر گوہر بات کریں گے، ہم چاہتے ہیں مذاکرات کا نتیجہ مثبت نکلے.علامہ راجہ ناصر عباس

pic b6316 1788274984.jpg

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ مذاکرات میں حکومت کا رویہ مناسب ہے، ہم نے طے کیا ہے صرف بیرسٹر گوہر ہی گفتگو کریں گے نجی ٹی وی سے گفتگو میں راجہ ناصرعباس نے کہا کہ مذاکرات میں کوئی ابہام نہ ہو اس لیے صرف بیرسٹر گوہر بات کریں گے، جب بات چیت ہو رہی ہے، ہم چاہتے ہیں مذاکرات کا نتیجہ مثبت نکلے.

انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان نے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری سے ملاقات کی اور اپنی باتیں کیں، لانگ مارچ سے متعلق بات ہوئی، ہمارے مطالبات پر بھی بات ہوئی انہوں نے کہا کہ حکومت کو جو تشویش تھی، اس کا بھی انہوں نے اظہار کیا، یہ سب ہونے کے بعد طے پایا ہے کہ کل دوبارہ ملاقات ہوگی. ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات اور بہنوں کی رہائی کا معاملہ اس کا حصہ ہے، ہم نے اپنا مو قف پیش کیا انہوں نے اپنی رائے دے دی ہے سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ انہوں نے اپنی باتیں کی ہیں، ہم نے اپنی باتیں کرلی ہیں، کل 2 بجے دوبارہ ہماری ملاقات ہوگی، فی الحال اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ حکومت کا رویہ مناسب تھا، رویہ مناسب نہ ہو تو مذاکرات کے لیے بیٹھ ہی نہیں سکتے، اصل بات یہ ہے کہ یہ مذاکرات جاری رہیں گے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کل پھر میٹنگ ہوگی اور بات چیت آگے بڑھے گی، اس کے بعد پھر فیصلہ ہوگا کہ آگے کیا کرنا ہے، کل مذاکرات کے بعد ہی ہم کچھ کہنے کے قابل ہوں گے، امید ہے چیزیں بہتر ہوں گی. حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ماحول کئی بار کشیدہ ہوا اور فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوئے حکومتی وفد میں طلال چوہدری، محسن نقوی، شیری رحمان، رانا ثناءاللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری جبکہ اپوزیشن کی جانب سے علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے.

ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت نے اپوزیشن سے باضابطہ طور پر لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا، حکومت نے اپوزیشن کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کروائی ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے کہا ہے کہ لانگ مارچ، دھمکیاں دینا اور اڈیالہ جیل پر حملے کی بات کرنا درست نہیں، مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی کرنا ہو گا.

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے فریقین پر افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیاذرائع کے مطابق مذاکرات کے آغاز پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبر پختون خوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف نکات پیش کیے اور تحریک طالبان پاکستان کے حملوں اور امن و امان کی صورتِ حال کو خیبر پختون خوا حکومت کی ناکامی قرار دیا. علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومتی موقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں، مذاکرات کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے، ارکانِ اسمبلی کی گرفتاریوں کا ذمے دار کون ہے ذرائع کے مطابق علامہ راجہ ناصر عباس نے موقف اختیار کیا کہ تحریکِ انصاف کے رہنما اپنی قیادت کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے،عمران خان سے ملاقات کے بغیر پی ٹی آئی راہنماﺅں سے فیصلوں کی توقع کیوں کی جاتی ہے، مسائل کا حل محمود خان اچکزئی اور ان کی تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد ہی نکل سکتا ہے.

شیری رحمان نے سوال کیا کہ ملاقات کی کیا ضمانت ہے کہ اس کے بعد مسائل حل ہو جائیں گے؟ علامہ راجہ ناصر عباس نے جواب دیا کہ میں اس کی ذمے داری لیتا ہوں،عمران خان سے ملاقات ہو گی تو حالات بہتر ہوں گے، جب تک ملاقات نہیں ہوتی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا. ذرائع کے مطابق اپوزیشن قیادت اور محمود خان اچکزئی کا موقف بیرسٹر گوہر نے حکومتی ٹیم کے سامنے رکھا، پہلے سیشن میں محسن نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے گفتگو کی جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تر خاموش رہے مذاکرات کے دوران نماز کے لیے وقفہ بھی لیا گیا.

ذرائع کے مطابق نماز کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی عدالتی معاملات پر مشیر سیاسی امور رانا ثناءاللہ اور علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہواذرائع کے مطابق اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی علامہ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل نہ ہونے اور عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی سمیت حکومتی اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا.

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل کروایا جائے گا ذرائع کے مطابق اپوزیشن راہنماﺅں نے اپنے دیگر قائدین کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بعد محسن نقوی اور راناثنا اللہ نے وزیراعظم شہبازشریف سے رابطہ کیا اور وزیراعظم کو تحریکِ انصاف سے مذاکرات کی اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں