بند کمروں کی پالیسیوں کا نقصان خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کو ہو رہا ہے. سہیل آفریدی

pic cf347 1790182430.jpg 15

وفاقی وزراءکے غیر ذمہ دارانہ بیانات صوبوں کے درمیان نفرت اور انتشار بڑھا رہے ہیں، عوام کو دہشتگرد قرار دینا انتہائی تشویشناک ہے.وزیراعلی خبیرپختون خوا کا ویڈیوپیغام

pic cf347 1790182430.jpg
pic cf347 1790182430.jpg

وزیراعلی خبیرپختون خوا سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں جن کا نقصان خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کو ہو رہا ہے وفاقی وزراءکے غیر ذمہ دارانہ بیانات صوبوں کے درمیان نفرت اور انتشار بڑھا سکتے ہیں، عوام کو دہشتگرد قرار دینا انتہائی تشویشناک ہے.

اپنے ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے نوجوان، پولیس اہلکار، فوجی جوان اور عام شہری مسلسل شہید ہو رہے ہیں گزشتہ 22 سال میں 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد چھوٹے آپریشنز کے باوجود پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا، اس لیے موجودہ پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے. 

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کے لیے اضافی 35 ارب روپے فراہم کیے جبکہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ 191 ارب روپے کردیا گیا پولیس کو مطلوبہ اسلحہ، آلات اور اے پی سیز کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے.

انہوں نے کہاکہ بند کمروں کی ایسی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں جن کا نقصان خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کو ہو رہا ہے وفاقی وزراءکے غیر ذمہ دارانہ بیانات صوبوں کے درمیان نفرت اور انتشار بڑھا سکتے ہیں، عوام کو دہشتگرد قرار دینا انتہائی تشویشناک ہے. انہوں نے کہاکہ صوبائی ایکشن پلان وفاق کو دیا گیا اور 100 دن میں امن کے لیے اقدامات کی صلاحیت ظاہر کی گئی، اب سوال ہے کہ اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا دہشتگردی کی آگ کو روکنے کے لیے پاکستان کے مفاد میں سنجیدہ فیصلے اور پائیدار امن کی موثر کوشش ضروری ہے.

انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے کارکن باشعور ہیں اور ہمارا لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن ہے اور پرامن رہے گا 4 اکتوبر کو عوام اپنا آئینی اور قانونی حق پرامن طریقے سے استعمال کریں گے. 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں