سوال یہ نہیں کہ 4 اکتوبر کو لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ اس سے بھی کہیں زیادہ اہم سوال یہ ہے جو سامنے آ رہا ہے، اینکرپرسن کامران شاہد

اینکرپرسن کامران شاہد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کی 4 اکتوبر تک وزارت اعلیٰ کے قائم رہنے سے متعلق بڑا سوال اٹھا دیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ بریکنگ پیشرفت ہے، سوال یہ نہیں کہ 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اہم سوال اب یہ سامنے آ رہا ہے، کہ کیا 4 اکتوبر کو سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہوں گے یا نہیں؟ اسی طرح جیو نیوز کے نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے اینکر پرسن شہزاد اقبال نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ مئوخر کرنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا پی ٹی آئی نے پس پردہ کسی حکومتی یقین دہانی کی وجہ سے ایسا کیا ہے؟ لانگ مارچ کی تیاری کے فقدان کی وجہ سے لانگ مارچ مئوخر کیا جارہا ہے؟
پی ٹی آئی ایک رہنماء نے لانگ مارچ مئوخر ہونے کی تصدیق کی لیکن لانگ مارچ کی تیاری کے فقدان کی تائید نہیں کی۔
بلکہ کہا کہ تیاری کا کوئی مسئلہ نہیں چاہتے ہیں ٹیسٹ میچ کھیلیں۔ 5اکتوبر عمران خان کی سالگرہ دن ہے، اس لئے اس دن کی علامتی اہمیت زیادہ ہے، جہاں پی ٹی آئی ٹیسٹ میچ کھیلنے کا ارادہ ظاہر کررہی ہے، وہاں پر ہمارے ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت کچھ اور ہی سوچ رہی ہے،اس حوالے سے مختلف ذرائع سے ہماری بات ہوئی ہے۔
فیصلہ سازوں کا کہنا ہے کہ اب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں ہے، پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کرنا ہے تو کرے، لانگ مارچ ملتوی کرنا تو کرے، مسئلہ اب آگے بڑھ چکا ہے، مسئلہ اب قومی سلامتی کاہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھی دہشتگردوں سے مل کر پاکستان کو کمزور کررہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشتگردی بڑھ رہی ہے، اس لئے اب فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا۔
اسی طرح وفاقی وزیر عطا تارڑ نے بھی اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی پر دہشتگردوں کی سہولتکار کا الزام بھی لگایا ۔

