حکومت تینوں مطالبات کو ماننے پر راضی ہوگئی ، حکومت کا اچھا رسپانس یہ کہ 26نومبر کیسز میں آج علیمہ خان کیخلاف فیصلہ نہیں آسکا، فیصلہ ہوجاتا تو انہیں 4، 5 سال جیل میں رہنا پڑتا، سینئرصحافی کی خبر

سینئرصحافی جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کیلئے پی ٹی آئی کے حکومت کو پیش کئے گئے تین مطالبات سامنے آگئے، حکومت تینوں مطالبات کو ماننے پر راضی ہوگئی، حکومت کا اچھا رسپانس یہ کہ 26نومبر کیسز میں آج علیمہ خان کیخلاف فیصلہ نہیں آسکا۔ سماء نیوز کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے سامنے تین مطالبات رکھے تھے، اگر حکومت ان تین مطالبات کو مان لیتی ہے تو ہم لانگ مارچ کو کال آف کرسکتے ہیں، پہلا مطالبہ یہ تھا کہ سپریم کورٹ نے 18اگست کو جو فیصلہ جاری کیا تھااس پر عملدرآمد کیا جائے، دوسرا یہ کہ عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کیا جائے، تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ عمران خان بہنوں کو رہا کیا جائے۔
اور ان کے خلاف مزید کیسز نہ بنائے جائیں، اگر حکومت تینوں مطالبات کو مان لیتی ہے تو لانگ مارچ کال آف ہوسکتا ہے۔
اطلاع یہ ہے کہ حکومت ان تینوں مطالبات کو ماننے پر راضی ہوگئی ہے،اب لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ محمود خان اچکزئی اور ناصر عباس کریں گے۔ محمود اچکزئی یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، اس چیز پر تھوڑا مسئلہ ہے کہ کیا ملاقات کرائی جائے یا نہیں، اگر اچکزئی سے ملاقات کرا دی جاتی ہے تو اچکزئی لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کردیں گے،حکومت نے ایک اچھا رسپانس یہ دیا کہ علیمہ خان کے خلاف ایک فیصلہ آنا تھا، ان کیخلاف انسداد دہشتگردی کی عدالت میں 26نومبر کے کیسز چل رہے ہیں، آج چونکہ جج صاحب موجود نہیں تھے، اگر آج فیصلہ ہوجاتا تو علیمہ خان کی سزا طویل ہوسکتی تھی اور پھر ان کو اگلے چار پانچ سال جیل میں رہنا پڑتا، اس وقت وہ کوٹ لکھپت جیل میں ہیں، ان کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
لیکن اب تاریخ اکتوبر کے مہینے تک چلی گئی ہے، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اگر حکومت علیمہ خان کو چھوڑنا چاہے تو چھوڑ سکتی ہے، اس طرح اگر عمران خان کی بہنوں کو رہا کردیا جاتا ہے تو اس سے بھی پی ٹی آئی لانگ مارچ ملتوی کرسکتی ہے۔

