صدر ٹرمپ کی وژنری قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں،ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازعے کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے.وزیراعظم کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاکستان، ترکیہ اور سعوی عرب کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا وزیراعظم نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی.
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ امن کے لیے پاکستان کی دیرینہ وابستگی سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے بھی عیاں ہوتی ہے وزیراعظم نے فوجی تصادم کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی اہم گزرگاہیں ہیں اور انہیں کھلا رہنا چاہیے.
شہباز شریف نے مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد کے پھیلاﺅ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اسرائیل کے جاری ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہے وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ اسرائیلی تشدد اب مغربی کنارے تک بھی پھیل گیا ہے، جہاں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے. شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ مسئلے کا واحد منصفانہ اور دیرپا حل ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت ہونا چاہیے وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں.
جنوبی ایشیا کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کیا شہباز شریف نے پاکستانی افواج کے پیشہ ورانہ ردعمل کو خراج تحسین پیش کیا انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کو سراہا جس سے دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ ٹل گیا مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزاد اور غیر جانب دار استصوابِ رائے کے وعدے کے منتظر ہیں.
وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ حق خودارادیت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ معاہدہ بدستور موثر اور قابلِ عمل ہے انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے اور پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، محدود کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا.
دہشت گردی کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانیں قربان کیں اور 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات برداشت کیے انہوں نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے افغان حکام سے قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا وزیراعظم نے اسلاموفوبیا میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی کا سامنا ہے انہوں نے مذہبی نفرت کے خاتمے پر زور دیا.
پاکستان کی معیشت کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ساختی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے معاشی استحکام بحال کیا ہے اور پائیدار و جامع ترقی کی جانب سفر شروع کر دیا ہے انہوں نے زراعت، صنعت، معدنی وسائل، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کو جدید مصنوعی ذہانت و آئی ٹی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا. موسمیاتی تبدیلی پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا بار بار سامنا کرتا ہے انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی مالی معاونت کے وعدے پورے کریں اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے کہا کہ جنگ ایک انتخاب ہے اور امن بھی ایک انتخاب ہے، جبکہ بعض اوقات زیادہ بہادری جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے میں ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مکالمے کو تصادم، تعاون کو جبر اور امن کو جنگ پر ترجیح دی ہے.

