ممکن ہے اسرائیل فہرست سے سفارتی حمایت اور مخالفت کے نقشے کے طور پر دستاویزی شکل دینا چاہتا ہو خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ جنگ، ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر اسرائیل کو متعدد ممالک کی شدید تنقید کا سامنا ہے.برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر کے دوران بڑے پیمانے پر وفود کے واک آﺅٹ نے جہاں عالمی توجہ حاصل کی، وہیں اسرائیلی وفد کے ایک رکن کی جانب سے ہال میں موجود رہنے اور باہر جانے والے وفود کے نام نوٹ کرنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگی ہے.
24 ستمبر 2026 کو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے نیتن یاہو کے خطاب سے قبل اور خطاب کے آغاز پر متعدد ممالک کے سفارت کار اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہال سے باہر چلے گئے مختلف رپورٹس کے مطابق عرب اور مسلم ممالک کے متعدد وفود نے واک آﺅٹ کیا، جبکہ بحرین، متحدہ عرب امارات، چین اور کولمبیا سمیت بعض وفود ہال میں موجود رہے.
نیتن یاہو نے تقریر کے آغاز ہی میں واک آﺅٹ کرنے والے سفارت کاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ہال میں موجود دیگر افراد بھی باہر جانا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں اس دوران اسرائیلی وفد کے ارکان کی جانب سے نعرے بھی لگائے گئے جبکہ جنرل اسمبلی کے صدر کو متعدد مرتبہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کرنا پڑی.
اس پورے منظر کے دوران ایک اسرائیلی سفارت کار کی جانب سے کاغذ پر نام یا وفود کی موجودگی سے متعلق نوٹس لیتے ہوئے نظر آنا خاص طور پر قابلِ توجہ بن گیا۔
سوشل میڈیا پر اسے ”اقوام متحدہ میں رول کال“ قرار دیا گیا، تاہم یہ کہنا کہ اس فہرست کو کس مخصوص سرکاری مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، اس پر ابھی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی. اسرائیلی ٹیلی ویژن کے مطابق اسرائیل نے نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ہال میں موجود نہ رہنے والے وفود کی باقاعدہ فہرست مرتب کی گئی اسرائیلی حکام کے مطابق 77 ممالک ایسے تھے جن کے وفود ہال میں موجود نہیں تھے یا نیتن یاہو کی تقریر کے آغاز پر باہر چلے گئے فہرست میں مصر، اردن، سعودی عرب، ترکی، ایران، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے نام شامل کیے گئے.
رپورٹ میں کہا گیا کہ مصر اور اردن کے نمائندے ہال میں اپنی نشستوں پر موجود نہیں تھے، مگر انہوں نے لازماً نیتن یاہو کی تقریر کے خلاف اجتماعی واک آﺅٹ میں حصہ نہیں لیا پاکستان کے وفد کے بارے میں اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ احتجاجاً باہر نکلا لیکن بعد میں ہال کے اطراف سے تقریر سنتا رہا کہا جارہا ہے کہ اسرائیل اس واقعے کو سفارتی حمایت اور مخالفت کے نقشے کے طور پر دستاویزی شکل دینا چاہتا ہو خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ جنگ، ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر اسرائیل کو متعدد ممالک کی شدید تنقید کا سامنا ہے.
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں واک آﺅٹ کرنے والے ممالک کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نہ صرف اپنے دفاع کے لیے بلکہ ان ممالک کے دفاع کے لیے بھی کارروائی کر رہا ہے جن کے نمائندے ہال سے باہر چلے گئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ممالک کے رہنما نجی طور پر اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں پر شکریہ ادا کرتے ہیں.

