کپاس مارکیٹ میں استحکام، کوالٹی بحران بڑا مسئلہ بن گیا

pic fcffc 1683115741.jpg 30
pic fcffc 1683115741.jpg

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے مجموعی طور پر روئی کے بھاؤ میں استحکام رہا، جبکہ نیویارک کاٹن مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کا رجحان رہا۔ ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں دلچسپی برقرار رہنے اور جنرز کی سرگرمیوں کے باعث کاروباری حجم بھی بہتر رہا۔کاٹن مارکیٹ ذرائع کے مطابق کپاس پیدا کرنے والے مختلف علاقوں میں فصل پر سفید مکھی، جسید اور پتہ مروڑ کے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے باعث کاشتکاروں میں تشویش پائی جاتی ہے اور پھٹی کی رسد میں متوقع اضافہ نہیں ہوسکا۔

سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں روئی کی فی من قیمت 18 ہزار 400 سے 18 ہزار 800 روپے جبکہ پھٹی کی فی 40 کلو قیمت 8100 سے 9700 روپے کے درمیان رہی۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں 100 روپے کا اضافہ کرکے اسے 18 ہزار 500 روپے فی من مقرر کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کے مطابق نیویارک کاٹن میں فی پاؤنڈ قیمت 82 سے 87 امریکی سینٹ کے درمیان رہی۔

یو ایس ڈی اے کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 2026-27 کیلئے 2 لاکھ 30 ہزار 500 گانٹھوں کی فروخت ہوئی، جس میں میکسیکو 69 ہزار 800، ویتنام 51 ہزار 200 اور پاکستان 44 ہزار 500 گانٹھوں کی خریداری کے ساتھ نمایاں رہے۔رپورٹ کے مطابق 2027-28 کیلئے ایک لاکھ 23 ہزار گانٹھوں کی فروخت ہوئی، جبکہ مختلف ممالک کو ایک لاکھ 64 ہزار 700 گانٹھیں برآمد کی گئیں۔اپٹما کے ذرائع کے مطابق رواں سال روئی میں آلودگی اور غیر متعلقہ اجزا کی آمیزش کی شکایات زیادہ ہیں۔

کاٹن مارکیٹ سے وابستہ حلقوں کے مطابق اس وقت پاکستان کی کاٹن مارکیٹ کا بڑا مسئلہ مقدار سے زیادہ معیار کا ہے۔ پنجاب کے بعض علاقوں سے آنے والی کپاس میں ریشے کی لمبائی مطلوبہ معیار سے کم اور معیار میں واضح فرق پایا جارہا ہے، جبکہ سندھ میں بھی معیار سے متعلق مسائل برقرار ہیں۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ناقص معیار کے باعث ٹیکسٹائل ملز کیلئے اچھی کوالٹی کی روئی کی خریداری مشکل ہورہی ہے، جس کے باعث خریدار محتاط ہیں اور بہتر نرخ دینے سے گریز کررہے ہیں۔

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کے مطابق غیر معمولی درجہ حرارت نے کپاس کے بیج کے انکرن کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اہم کاٹن زونز میں درجہ حرارت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے باعث بیج کے انکرن کی شرح تقریباً 30 فیصد تک گر گئی، جس سے آئندہ سیزن کیلئے تصدیق شدہ بیج کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ بیج کے انکرن کے معیار سے متعلق عارضی طور پر مناسب اقدامات کیے جائیں تاکہ کسانوں کو مطلوبہ مقدار میں تصدیق شدہ بیج فراہم کیا جاسکے۔

ان کے مطابق کپاس کی پیداوار بہتر بنانے کیلئے معیاری بیج کے ساتھ پانی کی دستیابی، بروقت کاشت، غذائی اجزا، کیڑوں سے تحفظ اور فصل کی بہتر نگہداشت بھی ضروری ہے۔کاٹن سے وابستہ حلقوں نے پاکستان کاٹن بورڈ کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئی قیادت کپاس کے معیار اور پیداوار میں بہتری کیلئے مؤثر اقدامات کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں