24 ستمبر کو صدر شی وائٹ ہاﺅس میں ٹرمپ سے باضابطہ ملاقات کریں گے‘ دونوں صدورکے درمیان بند کمرے میں مذاکرات ہوں گے. رپورٹ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے واشنگٹن پہنچنے والے چینی صدر شی جن پنگ کا خود جوائنٹ بیس اینڈریوز ایئرپورٹ پر استقبال کریں گے، جسے امریکا اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے سینئر امریکی حکام کے مطابق شی جن پنگ بدھ 23 ستمبر کو واشنگٹن کے اینڈریوزبیس پہنچیں گے، جہاں صدر ٹرمپ خود ان کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے.
امریکی صدور عام طور پر غیر ملکی سربراہان کا ایئرپورٹ پر استقبال نہیں کرتے اور سرکاری ملاقاتیں وائٹ ہاﺅس میں ہوتی ہیں، اس لیے ٹرمپ کا یہ اقدام خصوصی سفارتی اہمیت رکھتا ہے شی جن پنگ کا یہ دورہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد کسی چینی صدر کا امریکا کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا شی جن پنگ کا آخری امریکی سرکاری دورہ ستمبر 2015 میں ہوا تھا، جب بارک اوباما صدر تھے .
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق شی جن پنگ جمعرات 24 ستمبر کو وائٹ ہاﺅس میں صدر ٹرمپ سے باضابطہ ملاقات کریں گے اس موقع پر دونوں راہنماﺅں کے درمیان رسمی استقبالیہ تقریب اور فوجی اعزازات بھی ہوں گے، جس کے بعد دونوں صدور بند کمرے میں مذاکرات کریں گے دونوں راہنماﺅں کی ملاقات ایسے وقت ہورہی ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی.
رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں امریکی اور چینی ٹیرف، موجودہ تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھنے، امریکی مصنوعات کی چینی خریداری اور اہم صنعتی اشیا کی عالمی سپلائی جیسے معاملات زیر بحث آسکتے ہیں چین کی جانب سے امریکی ٹیکنالوجی پابندیوں میں نرمی جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اہم معدنیات کی برآمدات اور تجارتی توازن سے متعلق معاملات اٹھائے جانے کی توقع ہے.
امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ بھی مذاکرات کا اہم حصہ بن سکتی ہے دونوں ممالک اے آئی کو اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی اور فوجی صلاحیتوں سے بھی جوڑتے ہیں اسی طرح دونوں ملک اے آئی کے ممکنہ خطرات اور غلط استعمال پر کسی حد تک تعاون کے امکانات تلاش کرسکتے ہیں، تاہم ٹیکنالوجی کے میدان میں شدید مسابقت کے باعث کسی بڑے معاہدے کی گنجائش واضح نہیں.
نایاب معدنیات بھی امریکا چین مذاکرات کا اہم موضوع ہوں گی۔
چین عالمی سطح پر کئی اہم معدنیات کی سپلائی میں اہم کردار رکھتا ہے، جبکہ امریکا اپنی ٹیکنالوجی، دفاعی اور صنعتی ضروریات کے لیے ان مواد کی دستیابی کو اہم سمجھتا ہے دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر ممکنہ پیش رفت عالمی ٹیکنالوجی اور صنعتی سپلائی چینز پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے موجودہ مشرق وسطیٰ بحران بھی ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتا ہے .
رائٹرز کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چین سے ایران کے ساتھ اس کے اقتصادی اور توانائی روابط کے حوالے سے بھی بات چیت کرنا چاہتا ہے چین ایران کے تیل کا بڑا خریدار ہے اور بیجنگ کے تہران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں امریکا کو توقع ہے کہ چین ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے، تاہم بیجنگ نے اب تک تہران کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی سے مکمل ہم آہنگی کا عندیہ نہیں دیا.
شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان جمعرات کو وائٹ ہاﺅس میں صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے ریاستی عشائیے میں بھی شرکت کریں گے رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں میں ایمیزون کے جیف بیزوس، گوگل کے سندر پچائی، اوپن اے آئی کے سیم آلٹ مین، ایپل کے ٹم کک، ٹیسلا کے ایلون مسک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ڈیل ٹیکنالوجیز کے مائیکل ڈیل بھی مدعو افراد میں شامل ہیں.
ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کو عالمی معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں اہمیت حاصل ہے تاہم ملاقات سے قبل کسی بڑے معاہدے یا پالیسی تبدیلی کو حتمی سمجھنا قبل از وقت ہوگا اصل اہمیت مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلانات، ٹیرف پالیسی، ٹیکنالوجی تعاون اور چین امریکا تجارتی تعلقات سے متعلق عملی اقدامات کو حاصل ہوگی ٹرمپ کا شی جن پنگ کا خود ایئرپورٹ پر استقبال کرنا اگرچہ ایک غیر معمولی سفارتی اشارہ ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان موجود تجارتی، ٹیکنالوجی اور علاقائی اختلافات کا حل مذاکرات کے نتائج سے ہی واضح ہوگا.

