مارب‘ وادی ذنہ اور البلق کے علاقوں میں فضائی کاروائیوں کے جواب میں حوثیوں کا جوابی کاروائیوں کا اعلان

صنعا/مارب : یمن میںجلاوطن حکومت کی حامی فورسز اور حوثی جنگجوﺅں کے درمیان مارب سمیت مختلف محاذوں پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ یمنی فوج سے وابستہ ذرائع نے بعض علاقوں میں پیش قدمی اور حوثی جنگجوﺅں کو پسپائی پر مجبور کرنے کا دعویٰ کیا ہے. فوجی ذرائع کے مطابق مارب شہر کے مغرب میں واقع المشجح محاذ پر لڑائی کے دوران حکومتی فورسز نے کچھ پیش قدمی کی اور حوثیوں کی متعدد گاڑیوں کو نشانہ بنایا تاہم ان دعوﺅں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر نہیں ہوسکی.
ذرائع کے مطابق مارب کے جنوبی محاذ پر وادی ذنہ اور البلق کے علاقوں میں بھی جھڑپیں ہوئیں، جہاں حکومتی فورسز نے توپ خانے کے ذریعے حوثیوں کی مبینہ دراندازی کی کوششوں کو روکنے کا دعویٰ کیا اسی دوران فضائی حملوں کی بھی اطلاعات ہیں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ الجوبہ کے علاقے میں ام ریش اور سابق 26ویں بریگیڈ کے کیمپوں، جبکہ حریب کے قریب عقبہ ملعہ کے علاقے میں حوثی جنگجوﺅں کی مبینہ کمک اور اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا حملوں سے ہونے والے جانی یا مالی نقصان کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب نہیں ہوئیں.
دوسری جانب یمنی فورسز اور مقامی قبائل سے وابستہ جنگجوﺅں نے لحج کے الصبیحہ علاقے میں الاغبرہ محاذ پر جبل البازلہ، الضہورة اور الصیبارہ سمیت بعض اہم پوزیشنوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے فوجی ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی ہوئی اور حوثی فورسز کو اہلکاروں اور فوجی سازوسامان کے حوالے سے نقصان اٹھانا پڑا تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد یا فوجی سازوسامان کے نقصان سے متعلق کوئی آزادانہ اور قابل اعتماد اعداد و شمار فوری طور پر سامنے نہیں آئے.
یمن کے جنوب مغربی حصوں میں باب المندب، المضاربہ اور الوازعیہ کے محاذوں پر بھی لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے اس کے آس پاس فوجی سرگرمیوں میں اضافے سے تجارتی جہازوں کی سلامتی اور بحری آمدورفت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں تاہم موجودہ جھڑپوں کو اس گزرگاہ کی مکمل بندش قرار دینا قبل از وقت ہوگا.
علاقائی صورتحال کے تناظر میں باب المندب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ بحیرہ احمر کے راستے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان منتقل ہوتا ہے اگر علاقے میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو شپنگ کمپنیاں اضافی حفاظتی اقدامات یا متبادل راستوں پر غور کرسکتی ہیں، جس سے سفر کے وقت اور اخراجات میں اضافہ ممکن ہے یمن میں تازہ لڑائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں کئی سال سے جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے.
مارب اور جنوبی یمن کے بعض محاذوں پر حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی جاری رہی ہے، جبکہ دونوں جانب سے میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں تازہ جھڑپوں کے حوالے سے دستیاب زیادہ تر معلومات فوجی یا فریقین سے وابستہ ذرائع پر مبنی ہیں، اس لیے زمینی صورتحال، کنٹرول میں تبدیلی اور جانی نقصان کی مکمل تصویر آزادانہ طور پر واضح ہونا ابھی باقی ہے.
ادھر حوثی ترجمان کا کہنا ہے کہ مارب وادی ذنہ اور البلق کے علاقوں میں فضائی کاروائیوں کا جواب دیا جائے اگرچہ ترجمان نے کسی ملک کا نام نہیں ہے تاہم یمن کی جلاوطن فورسزکو سعودی فضائی کی مددحاصل ہے‘ووسری جانب عرب نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ مسقط مذکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور امریکا کے ساتھ مذکرات کے اگلے دور میں سعودی نمائندے بھی ممکنہ طورپر شرکت کرسکتے ہیں .
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مارب، لحج اور باب المندب کے اطراف فوجی سرگرمیوں کی شدت اس بات کا اہم اشارہ ہوگی کہ حالیہ جھڑپیں محدود نوعیت کی کارروائیوں تک رہتی ہیں یا یمن کے تنازع میں ایک وسیع تر فوجی مرحلے کا آغاز کرتی ہیں ادھر برطانیہ میں موجود عرب امور کے ادارے”مڈل ایسٹ آئی“کا کہنا ہے کہ جلاوطن حکومت کی حامی فورسزان وسیع علاقوں کو واپس لینے کے لیے جدوجہد کررہی ہیں جن سے چند روزقبل حوثیوں نے انہیں بے دخل کردیا تھا‘رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کو باب المندب‘ اہم جزائراور بحیرہ احمر کی طویل پٹی میں چیلنج کرنے والا کوئی نہیں.
مڈل ایسٹ آئی نے برطانوی میری ٹائم سیکورٹی ادارے سمیت دیگر عالمی اداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم ازکم تین روز سے بحیرہ احمر میں سمندری ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور حوثیوں کے حملوں کے خطرے کی وجہ سے شپنگ کمپنیاں باب المندب یا خلیج عدن کے راستوں سے بحرہ احمر میں داخل ہونے سے گریزکررہی ہیں.

