27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل علامہ راجہ ناصرعباس کی محسن نقوی سے ملاقات کی تصدیق

14

ملاقات میں عمران خان کے معاملات پر گفتگو ہوئی، لانگ مارچ سے متعلق بھی تفصیلی بات ہوئی، ملاقات اُن کی خواہش پر ہوئی، میں نے کسی سے درخواست نہیں کی تھی؛ قائد حزب اختلاف سینیٹ کی گفتگو

اسلام آباد  : سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے اپنی اہم ملاقات کی باقاعدہ تصدیق کردی۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اس اہم رابطے کا اس وقت انکشاف کیا، جب صحافی کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ ’کیا اس ہفتے آپ کی وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی؟‘ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح طور پر تصدیق کی کہ ’جی بالکل، ہماری ملاقات ہوئی ہے‘۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے بتایا کہ اس نشست میں بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کی قید، ادویات و سہولیات کے معاملات سمیت اپوزیشن کے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ اور دیگر اہم سیاسی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی، تاہم یہ ملاقات وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی ذاتی خواہش اور درخواست پر ہوئی تھی، میں نے خود اپنی طرف سے حکومت یا وزیرِ داخلہ سے ملاقات کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔

اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ نظام کولیپس کرچکا ہے، ہمارا سیاسی نظام کولیپس کرچکا ہے، عدلیہ کا نظام کولیپس کرچکا ہے اور اس کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں تو اس کا براہِ راست بوجھ کون اٹھا رہا ہے؟ پاکستان کے عوام اٹھا رہے ہیں جو ہر لحاظ سے کچلے جا رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں، دوسری جانب ہمارے جو حکمران ہیں، اگر ان کا اندازِ حکمرانی دیکھیں تو انسان حیران رہ جاتا ہے، ایسا تو شاید پرانے وقتوں کے بادشاہ بھی نہ کرتے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، قرآن و سنت کو سپریم سمجھتے ہیں اور ہمارے آئین کے مطابق حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ کی ہے، اسی قرآن نے اسراف اور تبذیر کو حرام قرار دیا ہے، اسراف اور تبذیر وہ بیماریاں ہیں جو معیشت کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہیں، اسراف کیا ہے؟ اگر آپ کی کھانے کی میز پر پانچ افراد ہیں اور آپ ان کی ضرورت سے زیادہ حلال کھانا لے آئیں تو یہ اسراف ہے، وہ کھانا تو حلال ہے حرام نہیں، لیکن اسے ضرورت سے زیادہ لانا اسراف ہے، اور یہ حرام اور گناہ ہے جبکہ تبذیر سے مراد وسائل کے اللے تللے اور ان کا ناجائز استعمال ہے۔

قائد حزب اختلاف سینیٹ نے مزید کہا کہ ​آپ موجودہ پاکستان کا اندازِ حکمرانی دیکھ لیں، پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ کا اندازِ حکمرانی دیکھ لیں، محض ایک سفر پر کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں، یہ واضح اسراف ہے اور اگر یہ اخراجات خلافِ قانون تھے تو یہ تبذیر ہے، یہ دونوں کام حرام اور گناہِ کبیرہ ہیں، یہ ہرگز جائز نہیں ہیں، ​پاکستان کے تمام پڑھے لکھے لوگ جو قرآن و سنت کا فہم رکھتے ہیں، وہ یہی کہیں گے کہ یہ اسراف بھی ہے اور تبذیر بھی ہے، یہ سراسر حرام اور گناہ ہے، اگر ہم کسی جگہ گاڑی پر جا سکتے ہیں لیکن بائی ایئر جاتے ہیں تو یہ حرام ہے، ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں