حوثی فوسرزکے ترجمان کا سعودی عرب کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا دعوی‘ بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے.حوثی فورسز کے ترجمان یحییٰ سریع کا بیان

صنعا/ریاض : یمن کے حوثی فوسرزکے ترجمان نے سعودی عرب کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا دعوی کیا ہے جن میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے حوثیوں کے مطابق حملے میں ریاض میں حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے. عرب نشریاتی ادارے کے مطابق حوثی فورسز کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ کارروائی یمن پر حالیہ سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کو مسترد کردیا.
دوسری جانب سعودی حکام نے رات کے دوران ریاض اور الخرج کے لیے فضائی خطرے کے الرٹ جاری کیے گئے مقامی اطلاعات کے مطابق ریاض کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعد ازاں دارالحکومت کے مرکزی ہوائی اڈے کے قریب دھواں اور آگ کے شعلے بھی دکھائی دیے. حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک دوسری کارروائی میں سعودی آرامکو کی ینبع میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور حملوں کے نتیجے میں متعلقہ مقامات پر بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی تاہم ان دعوﺅں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر نہیں ہوسکی.
سعودی عرب نے ریاض اور الخرج میں جاری کیے گئے فضائی خطرے کے الرٹس بعد ازاں واپس لے لیے حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب نے یمن میں 26 فضائی حملے کیے . خطے میں جاری ایران تنازع نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر عائد پابندیوں میں توسیع کی ہے، جبکہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ میں اپنی سفارتی سرگرمیوں کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو اہم موضوع بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں.
ادھر ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اس واقعے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ نے عالمی توانائی اور شپنگ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے باب المندب کے راستے سے گزرنے والی تجارتی شپنگ پہلے ہی خطے میں جاری سکیورٹی خطرات سے متاثر ہے، جس کے باعث بعض بحری جہازوں اور شپنگ کمپنیوں نے اضافی احتیاطی اقدامات اختیار کیے ہیں.
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت کام کرنے والے ایک تحقیقاتی مشن نے کہا ہے کہ ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ امریکا نے فروری میں ایران پر کیے گئے دو حملوں کے دوران ممکنہ طور پر جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی ہو تاہم اس معاملے سے متعلق حتمی قانونی ذمہ داری کا تعین متعلقہ قانونی اداروں کے دائرہ اختیار میں ہوگا.

