ٹرمپ نے روس اورایران سے متعلق نئی پابندیوں کے قانون پردستخط کردیئے،بھارت اور چین پر 100 فیصد ٹیرف کا امکان

12

لنڈسے او‘گراہم ایکٹ پر دستخط کے بعد صدر کو روس سے تیل وگیس خریدنے والے پانچ بڑے ممالک پر 100 فیصد تک ہدفی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا.رپورٹ

واشنگٹن :  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ایران کے خلاف پابندیوں سے متعلق نئے قانون ”‘لنڈسے او‘گراہم ایکٹ 2026 “ پر دستخط کردیئے ہیں جس کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے بعض ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار امریکی صدر کو حاصل ہوگیا ہے.

وائٹ ہاﺅس کے مطابق صدر ٹرمپ نے 18 ستمبر 2026 کو ایچ آر 5334 پر دستخط کیے قانون روس کے خلاف قانونی پابندیوں، ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرتا ہے جبکہ ایران پر موجودہ پابندیوں میں بھی توسیع کی گئی ہے قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک اور روسی تیل سے متعلق پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے پانچ بڑے ممالک پر 100 فیصد تک ہدفی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا تاہم قانون کسی ملک پر خود بخود 100 فیصد ٹیرف عائد نہیں کرتا بلکہ اس حوالے سے صدارتی اختیار فراہم کرتا ہے.

بھارت اور چین روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، اس لیے نئے قانون کے تحت ان دونوں ممالک پر امریکی ٹیرف کے ممکنہ اطلاق کا معاملہ اہم ہوگیا ہے تاہم فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بھارت یا چین پر 100 فیصد ٹیرف عائد کردیا گیا ہے قانون صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مخصوص معیار پر پورا اترنے والے ممالک کے خلاف درآمدی ڈیوٹیز عائد کریں ٹیرف کی اصل شرح اور کن ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا، اس کا فیصلہ انتظامیہ کے آئندہ اقدامات پر منحصر ہوگا.

نئے قانون میں روسی حکام، مالیاتی اداروں، دفاعی شعبے سے منسلک افراد و اداروں اور روس کے نام نہاد”شیڈو فلیٹ“ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے شیڈو فلیٹ سے مراد ایسے بحری جہازوں کا نیٹ ورک ہے جس کے بارے میں مغربی حکام کا کہنا ہے کہ اسے روسی توانائی کی برآمدات اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے قانون ایسے غیرملکی افراد اور اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش فراہم کرتا ہے جو روسی توانائی کی پیداوار یا پابندیوں سے بچنے کی کوششوں میں معاونت کرتے ہیں.

قانون کے دوسرے اہم حصے میں ایران خلاف پابندیوں کے قانون میں پانچ سال کی توسیع شامل ہے اس طرح ایران کے توانائی اور بعض دیگر شعبوں سے متعلق امریکی پابندیوں کا قانونی فریم ورک مزید برقرار رہے گا قانون میں بعض حالات میں پابندیوں یا ٹیرف سے استثنا دینے کی گنجائش بھی موجود ہے مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں صدر قومی مفاد کی بنیاد پر کانگریس کو تصدیق فراہم کرتے ہوئے بعض اقدامات سے استثنا دے سکتے ہیں.

قانون کے تحت روسی قدرتی گیس کی خریداری سے متعلق بعض ممالک کے لیے بھی استثنا کی شق موجود ہے، خصوصاً ایسے ممالک جو روسی گیس کی مجموعی برآمدات میں 15 فیصد سے کم حصہ لیتے ہوں اور روسی گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے نمایاں اقدامات کررہے ہوں یہ قانون پہلے امریکی سینیٹ اور پھر ایوان نمائندگان سے منظور ہوا سینیٹ نے اسے اگست میں 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کیا جبکہ ایوان نمائندگان نے 16 ستمبر کو 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظوری دی اس کے بعد صدر ٹرمپ کے دستخط سے یہ قانون نافذ العمل قانونی فریم ورک کا حصہ بن گیا.

نئے قانون کے فوری معاشی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکی انتظامیہ ٹیرف کے اختیارات کو کس حد تک استعمال کرتی ہے اور کن ممالک کو عملی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے بھارت اور چین پر ممکنہ ٹیرف کی صورت میں عالمی توانائی تجارت، روسی تیل کی خریداری اور امریکا کے ساتھ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات پر اثرات کا معاملہ اہم بن سکتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں