تہران کے سامنے دو راستے ہیں جن میں سے ایک انتہائی خراب ہے جبکہ دوسرا عظمت کی جانب لے جاتا ہے.امریکی صدر کی نیویارک میں عرب اور اسلامی ممالک کے راہنماﺅں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیاہے کہ امریکی مذکرات کاروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں ایران کی نمائندگی کرنے والے ثالثوں کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی انہوں نے مذاکرات کو ”اچھا اور انتہائی نتیجہ خیز“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں ایک اور ملاقات بھی ہوگی.
عرب نشریاتی ادارے کے مطابق نیویارک میں عرب اور اسلامی ممالک کے راہنماﺅں سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں ایرانی وفد کے ساتھ بہترین ملاقات کی تاہم انہوں نے کہا کہ تہران کے سامنے دو راستے ہیں جن میں سے ایک انتہائی خراب ہے جبکہ دوسرا عظمت کی جانب لے جاتا ہے. ٹرمپ نے کہا کہ اسٹیو اور جیرڈ نے آج ایران کی نمائندگی کرنے والے ثالثوں کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز ملاقات کی یہ محض ثالث ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ معاملات کس سمت جاتے ہیں ثالثی کی یہ کوشش کچھ عرصے سے جاری ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ پیش رفت ہو رہی ہے، کم از کم ہم سب سے یہی سن رہے ہیں.
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عرب اور اسلامی ممالک کے راہنماﺅں اور نمائندوں سے ملاقات کے دوران پیش گوئی کی کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ ایران مکمل طور پر معاشی طور پر تنہا ہو چکا ہے.
صدرٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ہم نے دہشت گرد قیادت سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کر لیا اور اس کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے وہاں افراطِ زر کی شرح اب 300 فیصد ہے اور کرنسی تباہ ہو چکی ہے یہ سب معاشی تنہائی کے عمل کا حصہ ہے.
انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں امریکی محکمہ خزانہ نے شاندار کام کیا ہے ہم نے ایران کو مکمل طور پر معاشی طور پر تنہا کر دیا ہے اور اس پر دباﺅ ڈال رہے ہیں تاکہ وہ بہت دیر ہونے سے پہلے جلد از جلد درست فیصلہ کرنے پر مجبور ہو ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایرانی تنصیب ”جبل الفاس“ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں بڑے پیمانے پر جوہری سرگرمی دیکھی گئی تو امریکہ اس مقام پر حملہ کر سکتا ہے.
انہوں نے کہاکہ ضرورت پڑی تو ہم ایرانی تنصیب جبل الفاس پر بمباری کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم نے جو کچھ بھی کیا اس کا بڑا حصہ، شاید 99 فیصد، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے کچھ مقامات پہلے ہی تباہ کیے جا چکے ہیں اور شاید ہمیں ایک اور مقام کو بھی تباہ کرنا پڑے جو’ ’جبل پیکاکس“ ہے یہ درست ہے کہ اس وقت ہمیں وہاں کوئی بڑی سرگرمی نظر نہیں آ رہی، لیکن اگر ہمیں کوئی سرگرمی نظر آئی تو ہم اسے فوری طور پر تباہ کر دیں گے.
دوسری جانب امریکی صدارتی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے اور جیرڈ کشنر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر قطری ثالثوں کے ذریعے ایرانی وفد کے ساتھ طویل مذاکرات کیے ثالث پورا دن دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچاتے رہے وٹکوف نے کہا کہ مذاکرات کا یہ دور کامیاب رہا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت تعمیری اور امید افزا ثابت ہوگی انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ثالث اپنا کام جاری رکھیں گے.

