ترک صدر اردوان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھا دیا، مذاکرات کے ذریعے حل پر زور

T u 24

جنوبی ایشیا میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، ترک صدر کا جنرل اسمبلی سے خطاب

T u

 ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور خطے کے تمام تنازعات، جن میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے، کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

صدر اردوان کا کہنا تھا کہ ترکیہ خطے میں اختلافات کے پرامن حل اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ ترک صدر نے اپنی تقریر میں ایشیا کے ساتھ ترکیہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ اپنی “Re-Engaging with Asia Initiative” کے ذریعے ایشیا بحرالکاہل کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے آسیان کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسیان کے ساتھ تعلقات کو ڈائیلاگ پارٹنرشپ کی سطح تک لے جانا اسی پالیسی کا عملی نتیجہ ہے۔

صدر اردوان اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فورم پر مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ برس اپنے خطاب میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد ہونے والی جنگ بندی کا بھی خیرمقدم کیا تھا اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

ترکیہ طویل عرصے سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی حمایت کا اظہار کرتا آیا ہے، جبکہ بھارت کا موقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر سے متعلق معاملات پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ نوعیت کے ہیں اور اس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

صدر اردوان نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی اور علاقائی معاملات کے ساتھ ساتھ ترکیہ کی خارجہ پالیسی، ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اور مختلف عالمی تنازعات کے حل کیلئے سفارت کاری اور مذاکرات کی اہمیت پر بھی بات کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں