جمہوریت کا دعویٰ کرنے کے باوجود لوگوں کو اغواء کرنا، خاندانوں کو ہراساں کرنا، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو پامال کرنا ایک فسطائی حکومت کا رویہ ہے؛ عمران خان کے بیٹے کی ایکس پوسٹ

لندن : پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے اپنی پھوپھی علیمہ خان کی لاہور سے اچانک گرفتاری اور نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کے عمل کو ریاستی اغواء قرار دیتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی ہے اور عالمی برادری سے پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں قاسم خان نے لکھا کہ آج ان کی پھوپھی علیمہ خان کو لاہور میں پولیس نے بلاجواز اور غیر قانونی طور پر اغواء کرلیا ہے، ہمارے خاندان کو اس بات کا علم تک نہیں دیا جا رہا کہ انہیں حراست کے بعد کہاں منتقل کیا گیا ہے، جب کہ اہل خانہ اور وکلاء کا ان سے کسی قسم کا رابطہ بھی نہیں ہونے دیا جا رہا۔
حکومتی رویئے کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار کا راگ الاپنے والی حکومت دراصل ایک فاشسٹ حکومت جیسا سلوک کر رہی ہے جہاں لوگوں کو راستوں سے اغواء کیا جا رہا ہے، خاندانوں کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قانون کی حکمرانی و انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، پہلے انہوں نے میرے والد عمران خان کو جیل میں ڈالا اور اب وہ ان کے خاندان اور رشتہ داروں کے پیچھے پڑگئے ہیں۔
قاسم خان نے پرزور مطالبہ کیا کہ ان کے خاندان اور قانونی ٹیم کو علیمہ خان تک فوری اور بلا تعطل رسائی دی جائے، انہیں کہاں رکھا گیا ہے اس کا مکمل افشاء کیا جائے اور انہیں فوراً رہا کیا جائے، اس کے علاوہ اپنے بیان کے اختتام پر عمران خان کے صاحبزادے نے بین الاقوامی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری پاکستان میں ہونے والے اس بدترین جبر اور ناانصافی سے مزید آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی۔

