سعودی عرب میں پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے کی کوئی مصدقہ یا سرکاری اطلاع سامنے نہیں آئی، وزارت اطلاعات

اسلام آباد : پاکستان نے سعودی عرب میں حوثی میزائل حملے کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کو نقصان پہنچنے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مکمل طور پر جھوٹا قرار دے دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اتوار کے روز ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں تعینات پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے کسی معتبر یا سرکاری ذریعے نے کوئی اطلاع نہیں دی۔
سوشل میڈیا پر رواں ہفتے بعض اکاؤنٹس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر ظہران میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں تعینات پاکستان کے تین جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کو نقصان پہنچا۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض بھارتی پروپیگنڈا سوشل میڈیا اکاؤنٹس اس غلط معلومات کو پھیلانے میں ملوث ہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں کو کسی قسم کے نقصان کی کوئی معتبر یا سرکاری اطلاع موجود نہیں، جبکہ پاکستانی طیاروں کو نقصان پہنچنے اور بعد ازاں انہیں وہاں سے منتقل کیے جانے سے متعلق دعوے بھی بے بنیاد ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کے تحت مملکت میں فوجی اہلکار اور سازوسامان بھی تعینات کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کو طائف میں سعودی فضائی دفاع کی جانب سے تباہ کیے گئے ایک حوثی ڈرون کا ملبہ گرنے کے نتیجے میں ایک یمنی شہری جاں بحق جبکہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے تھے۔ پاکستانی شہری کی حالت تشویشناک بتائی گئی، جبکہ واقعے میں متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اس واقعے سے دو روز قبل سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو فضا میں تباہ کیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
رواں ماہ کے دوران جنوبی سعودی عرب میں ہونے والے حوثی حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ توانائی سے متعلق بعض تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

