فغانِ بےحاصل

IMG 20260924 WA0042 30

فغانِ بےحاصل
از قلم: سماویہ اعظم

بدنصیب لوگوں کی اک یہی نشانی ہے
سجدے جتنے کر لیں، ہاتھ کچھ نہیں آتا

مقدر کے فیصلوں سے بھلا کون ہے جیتا
کوشش جتنی کر لیں، ہاتھ کچھ نہیں آتا

تھی جس کی تمنا وہ صُبحِ نَو نہ آئی
خواب جتنے بُن لیں، ہاتھ کچھ نہیں آتا

وفا کے نام پہ کھائے ہیں کئی دھوکے
قسمیں جتنی کھا لیں، ہاتھ کچھ نہیں آتا

وقت گزرا تو سبھی رنگ ماند پڑ گئے
رنگ جتنے بھر لیں، ہاتھ کچھ نہیں آتا

کسی سے کیا کریں شکوہ حیات کا
سزا جتنی کاٹ لیں، ہاتھ کچھ نہیں آتا

مر جائیں گے اک دن اس قید میں ہم
آنسو جتنے بہا لیں، ہاتھ کچھ نہیں آتا

بجھا ہے یہ دل اندھیری شب میں
چراغ جتنے جلا لیں، ہاتھ کچھ نہیں آتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں