توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت، وفاقی حکومت نے نئے رولز نافذ کردیے

442691 4129637 updates 22
442691 4129637 updates

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت کرتے ہوئے نئے رولز نافذ کردیے۔

اس حوالے سے جاری ہونے والے کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ہر مالی سال توشہ خانہ میں موصول تمام تحائف کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا اور تمام تحائف کھلی عوامی نیلامی میں فروخت ہوں گے تاہم ثقافتی، تاریخی اور سفارتی طور پر حساس تحائف نیلام نہیں ہوں گے۔ 

نیلامی سال میں دو بار ترجیحاً اور کم از کم ایک بار ضرور ہوگی جبکہ سرکاری عہدیداران اور ان کے خاندان نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ نیلامی سے حاصل رقم پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سیٹ کی صورت میں ملنے والے تحائف کو الگ الگ فروخت نہیں کیا جائے گا اور نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج ہوگی۔ 

تحائف سے متعلق فیصلوں کے لیے سیکرٹری کابینہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہوگی جس میں خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت ڈویژن کے ایڈیشنل سیکرٹریز شامل ہوں گے، کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ کون سے تحائف نیلام ہوں گے اور کون سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق  وزیراعظم اور صدر کے سوا تحائف وصول کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی تاہم سفارتی آداب کے تحت تحفہ لینا ناگزیر ہو تو اسے 30 دن کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔

بیرون ملک دورے کی صورت میں واپسی کے 30 دن میں تحفہ جمع کرانا ہوگا جبکہ الگ جہاز سے آنے والے تحفے کے لیے 60 دن کی مہلت ہوگی۔ 

گریڈ ایک سے 4 کے ملازمین نقد انعام رکھ سکیں گے جبکہ مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کرانے پر عدالت میں شکایت درج ہوگی۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق تحائف کی مارکیٹ ویلیو ایف بی آر اور نجی تخمینہ کار طے کریں گے، دونوں قیمتوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق ہونے پر تیسرے تخمینہ کار کی رائے حتمی ہوگی۔

حوالہ قیمت کے لیے اے آئی کو بھی استعمال کیا جاسکے گا جبکہ ہتھیاروں کی قیمت پی او ایف واہ طے کرے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تحائف کی حفاظت گریڈ 20 کے افسر کے سپرد ہوگی، اسٹور روم میں سی سی ٹی وی اور تالہ بندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

تمام تحائف کا ریکارڈ اور تصویر ویب پورٹل پر شائع کی جائے گی تاہم تحفہ دینے والی شخصیت اور ملک کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں