‘جماعتِ اسلامی’ نے وزیرِ اعظم کی درخواست پر اسلام آباد کی جانب مارچ عارضی طور پر روک دیا

Jamat e Islami 2

پارٹی قیادت اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات متوقع، مارچ کے شرکاء ملتان میں رک گئے

‘جماعتِ اسلامی’ کے سربراہ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ان سے مظاہرہ ملتوی کر دینے کی درخواست کی جس کے بعد پارٹی نے اسلام آباد کی جانب اپنا “لانگ مارچ” عارضی طور پر روک دیا ہے۔

دارالحکومت کی جانب مارچ میں شرکت کے لیے جماعتِ اسلامی کے ہزاروں حامی اتوار کو ٹرین کے ذریعے کراچی سے روانہ ہوئے تھے۔

پاکستان میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف پارٹی گذشتہ ایک ماہ سے کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر شہروں میں دھرنوں کے ذریعے احتجاج کر رہی ہے۔ اس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پیٹرولیم لیوی واپس لے کر عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف نے منگل کو نعیم الرحمٰن سے بات کی اور احتجاج ملتوی کر دینے کے لیے ان پر زور دیا۔

وزیرِ اعظم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے اس وقت نیویارک میں موجود ہیں۔ انہوں نے نعیم الرحمٰن کو بتایا کہ حکومت اپنے فیول سبسڈی پلان کے ذریعے لوگوں کو ریلیف فراہم کر رہی ہے جو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدت سے متأثر ہوئے ہیں۔

ملتان میں جماعتِ اسلامی کا سڑک کے راستے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا منصوبہ تھا۔

یہاں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ جماعتِ اسلامی اپنا احتجاج ختم نہیں کر رہی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پارٹی ملتان میں اپنا مارچ عارضی طور پر روکتے ہوئے اس بات کی منتظر ہے کہ نیویارک سے واپسی پر شہباز شریف سے ملاقات ہو۔

نعیم الرحمٰن نے کہا، “اگر وزیرِ اعظم ملاقات میں ریلیف فراہم کریں تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ اگر تاخیر ہوئی تو لانگ مارچ آگے بڑھے گا۔”

جماعتِ اسلامی کے احتجاج کے پیچھے کوئی ذاتی مفادات کارفرما نہیں ہیں، یہ بات واضح کرتے ہوئے نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ وہ حکومت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ جماعتِ اسلامی اپنا مارچ ختم نہیں کر رہی اور اس کے حامی ملتان میں ہی قیام کریں گے۔

انہوں نے کہا، “آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے جو منصوبے (اے، بی، سی) بنائے ہیں، ان کے مطابق ہم صرف ایک ہی راستے سے اسلام آباد میں داخل نہیں ہوں گے۔”

پاکستانی حکومت پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز عائد کرتی ہے۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے کیونکہ امریکہ-

ایران کشیدگی اور سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستانی حکام نے مجوزہ مارچ کے پیشِ نظر سخت حفاظتی اقدامات کیے اور احتجاج سے قبل اسلام آباد کا ‘ریڈ زون’ سیل کرنے کے لیے کنٹینرز لگا دیے ہیں۔

اس علاقے میں پاکستان کی اہم ترین انتظامی، قانون ساز اور عدالتی عمارات واقع ہیں اور یہاں کئی غیر ملکی سفارت خانے بھی موجود ہیں۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں