مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کی یو این کوششیں تیز

5

اسلام آباد  :  مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزرفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ سوالات اہم ہوتے جا رہے ہیں کہ معاشرے اور حکومتیں اس کے فوائد کو بھرپور انداز میں کیسے سمیٹ سکتے ہیں اور ان خطرات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے جو ملکی سرحدوں سے آگے تک پھیل سکتے ہیں۔

8 ستمبر کو مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے ایک سابق محقق کی جانب سے اس انتباہ کے بعد یہ تشویش مزید شدت اختیار کر گئی کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے عالمی خطرات سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رکن ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کے انتظام کے حوالے سے مشترکہ اصولوں اور باہمی ذمہ داریوں پر اتفاق کر سکیں۔

‘باہمی تعاون ناگزیر ہے’

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے گزشتہ روز کہا ہے کہ اس معاملے میں ملکی سطح پر اقدامات ضروری ہیں لیکن بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کئی برس سے ایسا فورم مہیا کرنے کے لیے کام کرتا آیا ہے جہاں رکن ممالک مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بارے میں مشترکہ فہم پیدا کر سکیں، باہم تعاون کے طریقوں پر غور کر سکیں اور سلامتی، انسانی حقوق اور ٹیکنالوجی تک رسائی میں پائے جانے والے تفاوت جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے ضابطے وضع کرنے کی کوشش کریں۔

© Adobe Stock/DIgilife مصنوعی ذہانت کی مدد سے اہم طبی کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی باضابطہ ترقی

مصنوعی ذہانت کے عالمی انتظام سے متعلق اقوام متحدہ کی موجودہ کوششوں کی بنیاد ‘عالمی ڈیجیٹل میثاق’ پر ہے جسے رکن ممالک نے 2024 میں اقوام متحدہ کے ‘معاہدہ برائے مستقبل’ کے ایک حصے کے طور پر منظور کیا تھا۔ اس میثاق میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا گیا اور دو نئے طریقۂ کار تجویز کیے گئے۔

پہلا، ایک آزاد سائنسی پینل کا قیام تھا جو مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے مواقع اور اس ٹیکنالوجی سے لاحق خطرات کا جائزہ لے جبکہ دوسرا ایک سالانہ عالمی مکالمے کا اہتمام تھا جس میں حکومتیں اور دیگر متعلقہ فریق اے آئی کے انتظام کے حوالے سے اپنے طریقہ ہائے کار میں ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔

گزشتہ سال اگست میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلیمیں باضابطہ طور پر ان دونوں اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔

مصنوعی ذہانت پر آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل کا مقصد حکومتوں کو تیزی سے ترقی کرتی اس ٹیکنالوجی کے بارے میں دستیاب معلومات، امکانات اور نامعلوم پہلوؤں کا ایک غیر جانب دار سائنسی جائزہ فراہم کرنا ہے۔

مصنوعی ذہانت پر عالمی مکالمے کا مقصد حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقین کو ایک جگہ جمع کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، تجربات کا تبادلہ ہو سکے اور مصنوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق مختلف طریقہ ہائے کار میں زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔

سائنسی پینل کی پہلی ابتدائی رپورٹ یکم جولائی کو جاری ہوئی۔ اس میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، خصوصاً استدلال، پروگرامنگ اور سائنسی تحقیق جیسے شعبوں میں یہ ترقی کہیں تیز ہے اور اس سے نمایاں مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بعض خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی، جن میں گمراہ کن معلومات، امتیازی سلوک، نجی معلومات کی خلاف ورزی، سائبر حملے اور ایسی مصنوعی ذہانت شامل ہیں جو مستقبل میں اس قدر طاقتور ہو سکتی ہے کہ اس پر قابو رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

© Adobe Stock/Pinkeyes مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ایک ڈیٹا سنٹر۔

حفاظتی ضوابط کی تشکیل

اقوام متحدہ کی یہ کوششیں ایسے وقت جاری ہیں جب بحث کا مرکز اس سوال سے آگے بڑھ چکا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ضابطے کا پابند بنایا جائے یا نہیں۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کون سے حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں۔

سیکرٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کی محفوظ، قابل اعتماد اور ذمہ دارانہ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس ترقی کو عارضی طور پر سست کرنے کی رضاکارانہ کوششیں انفرادی، ناقابل تصدیق یا غیر یکساں انداز میں ہوں تو وہ کافی ثابت نہیں ہوں گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اقوام متحدہ انسانیت کے لیے موثر ضابطہ کار کی جانب بڑھنے کے لیے کوئی سربراہی اجلاس منعقد کر سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس آئندہ ہفتے منعقد کرانا ممکن نہیں لیکن اسے جلد ہونا چاہیے اور اس میں عوامی شعبے، نجی شعبے، سائنسی برادری اور سول سوسائٹی سمیت سب کو شرکت کرنی چاہیے۔

سیکرٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی فنڈ کے قیام اور بچوں کو اس ٹیکنالوجی کے خطرات سے تحفظ دینے کا وعدہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔اس فنڈ کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ اور ضروری صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد دینا ہو گا۔

اگرچہ حکومتیں مصنوعی ذہانت کے ضوابط طے کرنے کے لیے اپنے فیصلے خود کریں گی، تاہم اقوام متحدہ کا کردار ان حکومتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، بات چیت کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرنا اور بین الاقوامی تعاون کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کرنا ہوگا۔

UN Photo/Yutaka Nagata نیو یارک میں اقوام متحدہ کا صدر دفتر۔

مصنوعی ذہانت پر بحث

بعض سفارتی ذرائع کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران مصنوعی ذہانت کے موضوع پر بحث کر سکتی ہے۔

اسمبلی کے نئے اجلاس میں عام مباحثے کے موقع پر ہونے والی مختلف سرگرمیوں کے دوران بھی مصنوعی ذہانت کا مسئلہ نمایاں رہے گا۔ پائیدار ترقی پر اقوام متحدہ کے میڈیا زون میں 21 ستمبر کو ایک پروگرام منعقد کیا جائے گا جبکہ مصںوعی ذہانت اور انسانی ترقی کے سلسلے کا آخری پروگرام 23 ستمبر کو ہو گا۔

اس دوران مصنوعی ذہانت اور انسانی اختیار و خودمختاری کے باہمی تعلق پر بات کی جائے گی۔

سیکرٹری جنرل نے بتایا ہے کہ آئندہ ہفتے عالمی رہنماؤں کے ساتھ ان کی گفتگو میں مصنوعی ذہانت ایک اہم موضوع ہو گا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی موجودہ دوڑ کا موازنہ سرد جنگ کے دور میں امریکا اور سوویت یونین کے درمیان اسلحے کی دوڑ سے کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی میں سب سے آگے رہنے والے ممالک خصوصاً امریکہ اور چین کو آپس میں تعاون کرنا چاہیے اور تب تک اس ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی کوشش کرنا ہو گی جب تک اس سے لاحق خطرات کا مزید جائزہ سامنے نہ آ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں