نائن الیون کے ماسٹرمائنڈ خالدشیخ محمد کے خلاف 20سال گزرنے کے باوجود مقدمے کی سماعت کیوں شروع نہیں ہوسکی؟

11

بعض قانونی معاملات اب بھی زیرالتوا ہیں جو اس تاریخ پر سماعت شروع ہونے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں‘خفیہ راز‘انسانی حقوق کی خلا ف ورزیاں‘تشدد‘سمیت کئی معاملات مقدمے کی سماعت میں بڑی رکاوٹ ہیں. امریکی ادارے کی رپورٹ

واشنگٹن : امریکہ میں11 ستمبر 2001 کے حملوں کے ماسٹرمائنڈقراردیئے جانے والے خالدشیخ محمد کے خلاف مقدمے کی20سال زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجودسماعت بھی شروع نہیں ہوسکی خالد شیخ محمد پر حملوں کا منصوبہ ساز ہونے کا الزام ہے انہیں 20 سال سے زیادہ عرصہ قبل گرفتار کیا گیا، مگر قانونی رکاوٹوں کے سبب مقدمہ آگے نہیں بڑھ سکا.

تازہ پیش رفت میں گوانتانامو کے ایک فوجی جج نے خالد شیخ محمد اور چار دیگر ملزمان کے خلاف سماعت شروع کرنے کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی ہے تاہم ”ایسوسی ایٹڈ پریس“ کے مطابق بعض قانونی معاملات اب بھی زیرالتوا ہیں جو اس تاریخ پر سماعت شروع ہونے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں مقدمے کی ایک بڑی مشکل خالد شیخ محمد کے امریکی خفیہ ادارے (سی آئی اے) کی حراست میں گزارے گئے عرصے کے باعث پیدا ہوئی انہیں 2003 میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا، خفیہ مقامات پر رکھا گیا اس دوران سخت تفتیش کی گئی، جن میں پانی میں ڈبونے کا وہم پیدا کرنا بھی شامل تھا.دفاع کا موقف تھا کہ اس دوران حاصل کیے گئے اعترافات جبر اور تشدد کا نتیجہ تھے ان بیانات کے استعمال پر شواہد کے قابل قبول ہونے کے حوالے سے طویل جنگ شروع ہوئی یہ بات ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتائی . حراست کے حالات کے ساتھ استغاثہ کے زیراستعمال اعترافات بھی قانونی بحث کا مرکز بن گئے ایک فوجی جج نے خالد کا 2007 میں دیا گیا ایک اہم اعتراف خارج کر دیا کیونکہ یہ شدید جبر میں لیا گیا تھا اور اس وقت انہیں وکیل تک رسائی حاصل نہیں تھی جریدے نیویارک پوسٹ کے مطابق استغاثہ نے مزید تاخیر سے بچنے کے لیے اس اعتراف کے بغیر مقدمہ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا اس کے پاس مواصلاتی ریکارڈ اور مالیاتی معلومات سمیت دیگر شواہد موجود ہیں .یہ مقدمہ اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ شواہد کا ایک حصہ سی آئی اے کے خفیہ حراستی پروگرام سے متعلق ہے اور عدالت خفیہ معلومات سے نمٹ رہی ہے اس کے باعث وکلا کے سامنے معلومات ظاہر کرنے، عدالت میں انہیں پیش کرنے اور قومی سلامتی سے متعلق راز محفوظ رکھنے کی حدود پر مسلسل بحث جاری ہے”ہیومن رائٹس فرسٹ“کے مطابق یوں مقدمے سے قبل کی سماعتیں خفیہ شواہد اور ان کے استعمال کے معاملے پر الگ قانونی جنگوں میں تبدیل ہو گئیں تاخیر کی ایک اور وجہ عدالتی نظام ہے مقدمہ روایتی امریکی وفاقی عدالت کے بجائے گوانتانامو کے فوجی اڈے میں ایک فوجی کمیشن کے سامنے چل رہا ہے، جو ایک غیر معمولی نظام ہے.ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مقدمے کے دوران ججوں، استغاثہ اور دفاعی ٹیموں میں تبدیلیاں ہوئیں جبکہ کووِڈ-19 اور گوانتانامو میں کام کے تقاضوں سے بھی رکاوٹیں پیدا ہوئیں سال 2024 میں استغاثہ نے خالد شیخ محمد اور دو دیگر ملزمان کے ساتھ اعترافِ جرم کے معاہدے کیے ان کے تحت ملزمان جرم قبول کرتے تو مکمل مقدمے کے بجائے انہیں سزائے موت کی جگہ عمر قید دی جاتی لیکن اس وقت کے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مداخلت کر کے اپنی منظوری واپس لے لی اس کے بعد یہ قانونی تنازع شروع ہوا کہ آیا انہیں معاہدہ طے پانے کے بعد اسے منسوخ کرنے کا اختیار تھا.رائٹرز کے مطابق جولائی 2025 میں ایک وفاقی اپیل عدالت نے معاہدہ منسوخ کرنے کے معاملے میں آسٹن کے اختیار سے متعلق حکومت کے موقف کی تائید کر دی، جس کے بعد مقدمہ دوبارہ سماعت کی طرف لوٹ گیا یوں مقدمے میں تاخیر کسی ایک رکاوٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی برسوں کے دوران جمع ہونے والے معاملات کا مجموعہ ہے جن میں تشدد سے متعلق اعترافات، اہم شواہد کا اخراج، سی آئی اے کے خفیہ پروگرام سے متعلق حساس معلومات، فوجی عدالت کی پیچیدگیاں اور اعترافِ جرم کے معاہدے کا تنازع شامل ہے جون 2028 کی نئی تاریخ کے بعد کاغذ پر مقدمے کا راستہ واضح دکھائی دیتا ہے لیکن اس کی طویل تاریخ کو دیکھتے ہوئے مقررہ وقت پر سماعت شروع ہونا اب بھی ایک قانونی چیلنج ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں