دلدار بھٹی کے بارے میں بات کرنا جس قدر آسان ہے، لکھنا اتنا ہی مشکل ہے کہ یہ پارے کو مٹھیوں میں بند کرنے کا عمل ہے۔ ٹی وی پر عام طور سے اُس کی شخصیت کا ایک ہی رخ نمایاں رہا ہے اور وہ ہے پنجابی کے اسٹیج شوز کا بہترین اور مقبول ترین میزبان۔ کمپئرنگ کے حوالے سے اس نے اُردو کے بہت سے کام یاب پروگرام بھی پیش کیے ہیں، لیکن ٹاکرے سے لے کر پنجند تک جو عوامی مقبولیت اُسے پنجابی زبان کے پروگراموں سے ملی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ منی اسکرین کے حوالے سے اس کا چہرا پاکستان کے چند سب سے معروف چہروں میں سے ہے۔ شاید اسی لیے وہ کہا کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص اُس کے چہرے سے اُسے نہیں پہچانتا تو وہ اس سے اپنا تعارف بھی نہیں کراتا۔
اسلام آباد میں فن کاروں کا ایک بہت بڑا اجتماع تھا۔ فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں سے لوگ مدعو کئے گئے تھے اور رات کے کھانے کے بعد لیاقت ہال پنڈی میں اُن کے لئے ایک شو ترتیب دیا گیا تھا جس کے وہ خود ہی مہمان تھے اور خود ہی میزبان۔
دلدار کمپئرنگ کر رہا تھا اور سامنے ایک ایسی آڈینس تھی جس کا ہر فرد خود بھی اپنے اپنے فن کا مانا ہوا ماہر تھا۔ ان میں غلام فرید صابری قوال بھی تھے جو اپنی بھاری اور منفرد آواز میں وقفے وقفے کے ساتھ اللہ اس طرح کہتے تھے کہ سب لوگ اُن کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔
اُن کی اس حرکت سے دلدار بہت ڈسٹرب ہو رہا تھا، کیونکہ اس سے اس کی اپنی اور اسٹیج پر موجود فن کار کی پرفارمنس بہت بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔ جب صابری صاحب نے کوئی پانچویں بار اللہ کا نعرہ لگایا تو دلدار اسٹیج سے بولا: “صابری صاحب اللہ کو اتنا بھی نہ یاد کریں، کیونکہ اُس نے آپ کو یاد کر لیا تو پچھتائیں گے۔”

