نور جہاں کا ہاتھ دیکھ کر سیٹھ کرنانی نے جو پیش گوئی کی وہ سچ ثابت ہوئی

4

دنیا میں نور جہاں نام کی دو عورتوں نے بہت شہرت حاصل کی ہے۔ ایک تو ملکۂ ہندوستان نور جہاں، جو بادشاہ جہانگیر کی بیگم تھیں اور دوسری ملکۂ ترنم نور جہاں، جو اپنی اداکاری اور آواز کی جادوگری کے لیے مشہور تھیں۔

ملکۂ ترنم نور جہاں کا پیدائشی نام اللہ وسائی تھا اور سیٹھ دل سکھ کرنانی نے ان کو نور جہاں کا نام دیا تھا۔ نور جہاں بچپن میں ہی استاد فضل حسین کی شاگرد ہو گئی تھیں۔ استاد بہت بوڑھے ہو گئے تھے، لہٰذا انہوں نے اپنے ایک ہونہار شاگرد استاد غلام حیدر سے کہا کہ اب تم اللہ وسائی اور عیدن، دونوں بہنوں کو موسیقی کی تعلیم دو گے۔ اس طرح نواب بیگم، عیدن بیگم اور اللہ وسائی پر مشتمل تھیٹر چند دنوں میں ہی پنجاب میل کے نام سے مشہور ہو گیا۔ تھیٹر کے مالک سیٹھ دل سکھ کرنانی نے ایک دن کہا کہ آپ سب لوگ آج سے اللہ وسائی کو نور جہاں کہا کریں گے۔ سیٹھ نے نور جہاں کا ہاتھ دیکھ کر یہ بھی کہا کہ اس کی شہرت ایک دن ساتویں آسمان تک پہنچے گی۔

۱۹۴۲ء میں نور جہاں کی ایک ایسی فلم کی نمائش ہوئی جس نے بے بی نور جہاں کو بحیثیت ہیروئن فلم نگری میں متعارف کرایا۔ پنچولی پیکچرس کے بینر تلے بنی اس فلم کا نام تھا، “خاندان۔” جس کے ہدایت کار شوکت حسین رضوی تھے۔ اس فلم کی موسیقی غلام حیدر نے ترتیب دی تھی اور نور جہاں کے مقابل غلام محمد نے ہیرو کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ منورما، اجمل، بے بی اختر اور ابراہیم وغیرہ اس فلم خاندان کے دیگر اہم کردار تھے۔ اس فلم کی نمائش کے وقت نور جہاں کی عمر صرف ۱۳ برس کی تھی۔ فلم خاندان کے بعد اگلے ہی برس ۱۹۴۳ء میں نور جہاں کی فلم “نوکر” آئی جس میں چندر موہن، شوبھنا سمرتھ، یعقوب وغیرہ دیگر اداکار تھے۔ دوسری فلم “دہائی” تھی جس میں شانتا آپٹے، کمار، انصاری اور مرزا مشرف تھے۔ تیسری فلم “نادان” تھی جس میں مسعود، مایا دیوی، جلو بائی، مراد، نذیر اور جانی بابو تھے۔ ۱۹۴۴ء میں فلم “دوست” اور ” لال حویلی، دو فلمیں منظر عام پر آئیں، جن کے ہدایت کار شوکت حسین رضوی اور کے۔ بی۔ لال تھے۔ ان فلموں میں موتی لعل اور سریندر جیسے منجھے ہوئے اداکاروں نے ہیرو کے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں