وہ بھی صرف سیاسی ایکٹوٹی کرنے کے جرم میں ایسا کیا جاتا ہے، ملک میں کیا آمریت ہے؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ انہیں سیاسی ایکٹیویٹی کا اتنا خوف کیوں ہے؛ پی ٹی ائی رہنماء میاں عثمان اکرم کے گھر آمد پر گفتگو

لاہور : خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے لاہور کے دورے کے دوسرے دن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میاں اکرم عثمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے جہاں انہوں نے میاں اکرم عثمان کے اہل خانہ سے تفصیلی ملاقات کی اور پولیس کی جانب سے مبینہ چھاپوں اور توڑ پھوڑ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ تفسیلات کے مطابق میاں اکرم عثمان کی رہائش گاہ کے باہر اور فیملی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا غصہ ایک بار پھر دیکھنے کو ملا، انہوں نے پنجاب پولیس اور مقامی انتظامیہ کی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی جرات کیسے ہوتی ہے کہ یہ اس طرح چادر اور چار دیواری کا مقدس حلف اور تقدس پامال کرتے ہیں؟ گھروں میں خواتین اور بچوں کی موجودگی کے باوجود اس طرح کے دھاوے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
سہیل آفریدی نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے رویئے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ مجھے بالکل سمجھ نہیں آتی کہ ان جعلی حکمرانوں کو اپوزیشن کی معمولی سیاسی ایکٹیوٹی یعنی سیاسی جلسہ جلوس یا ریلی سے آخر اتنا خوف کیوں ہوتا ہے؟ گرفتاریوں، پرچوں اور پولیس گردی سے تحریک انصاف کے کارکنان اور قیادت کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے اور وہ بنیادی آئینی حقوق و سیاسی آزادی کے لیے اپنا آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے، مزاحمت کے بغیر حل نہیں ہے۔

