پیٹرول پمپس پر موٹرسائیکلوں کا رش رہتا ہے، ہر موٹرسائیکل سوار کی جانچ پڑتال عملے کیلئے ممکن نہیں، اسکیم پر عمل درآمد سے پہلے اعتماد میں لینا ضروری ہے؛ پیٹرولیم ڈیلرز کا مؤقف

اسلام آباد : وفاقی حکومت کی جانب سے اعلا ن کردہ فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ کے عمل میں چیلنج سامنے آ گیا، پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اسکیم پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس پر عمل درآمد سے قبل ملک بھر کے پیٹرولیم ڈیلرز کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ کی حکمتِ عملی کے انتظامی نقائص کی نشاندہی کی گئی، ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے ہزاروں پیٹرول پمپس پر روزانہ لاکھوں موٹر سائیکلوں کا رش رہتا ہے، ایسی صورتحال میں ہر موٹر سائیکل سوار کی شناختی دستاویزات، رجسٹریشن یا انوائس کی جانچ پڑتال کرنا پمپ عملے کے لیے عملی طور پر انتہائی دشوار اور ناممکن عمل ہے۔
ڈیلرز نے کہا ہے کہ بغیر کسی واضح اور خودکار ڈیجیٹل طریقہ کار کے پمپس پر انوائسز چیک کرنے کے عمل سے عوام اور پمپ عملے کے درمیان تلخ کلامی، لائنوں کی طوالت اور شدید بدمزگی کا اندیشہ پیدا ہو جائے گا، صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پی پی ڈی اے نے آج شام ملک بھر کے پیٹرولیم ڈیلرز کا ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، اجلاس میں فیول ریلیف اسکیم کے تکنیکی پہلوؤں، انتظامی طریقہ کار اور ممکنہ درپیش چیلنجز پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔

