tickersبلاگخواتین سپیشلعلاقائی

فیشل کریں ۔۔۔ چہرہ چمکائیں – مساج

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چہرے کی نرمی اور ملائمت کم ہوتی جاتی ہے اور ایسا عموماً غیر متوازن غذا اور جلد کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب ہوتا ہے۔اس ضمن میں ماہرین کا خیال ہے کہ فیشل یعنی چہرے کا مساج،حفظانِ صحت کے لئے بہت ضروری ہے،کیونکہ چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے اور خوبصورتی کو بحال کرنے میں مساج اہم کردار ادا کرتا ہے

یہ آپ کے چہرے کے اطراف جمع شدہ غیر ضروری مواد کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔فیشل مساج کے بے شمار فوائد ہیں۔

:فیشل کے فوائد
فیشل کرنے سے نہ صرف چہرے کی صفائی ہوتی ہے بلکہ تازگی بھی ملتی ہے۔اس سے چہرے پر ایک خاص چمک پیدا ہوتی ہے۔چہرے پر جھریاں نہیں پڑتیں۔مساج کرنے سے دوران خون چہرے کی جانب بڑھتا ہے،جس سے چہرے کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور جلد کی نشوونما بہتر طور پر ہوتی ہے۔

مساج،چہرے کی خوبصورتی کو بڑھاتا اور بڑھاپے کے اثرات کو روکتا ہے۔فیشل مساج کے ذریعے چہرے سے مہاسوں اور دیگر داغ دھبوں کو دور کرنے کے علاوہ چہرے کی سیاہ کیلوں کو بھی نکالا جا سکتا ہے۔مساج چہرے کے پٹھوں یا مسلز کو مضبوط کرتا ہے۔جلد میں موجود گرد و غبار کو باہر نکالتا اور مہاسے اور کیلوں کے نکلنے کے عمل کو روکتا ہے۔

فیشل دراصل جلد کو نرم کرنے کا ایک سادہ سائنسی طریقہ یا ہنر ہے،جو جلد کو تروتازہ کرنے کے ساتھ چکنائی اور پسینہ پیدا کرنے والے گلینڈز کے عمل کو بہتر کرتا ہے۔چہرے کو مناسب چکناہٹ کے ساتھ تازہ اور ٹھنڈا رکھتا ہے۔سخت و کھردری جلد کو نرم اور لچکدار بناتا ہے۔جلد کے مسائل کی ایک عمومی اور بنیادی وجہ پانی کا کم استعمال ہے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چائے،کافی اور جوس وغیرہ پانی کا نعم البدل ہو سکتے ہیں اور جسم کے لئے پانی کی ضروری مقدار کو پورا کرتے ہیں،وہ قطعاً غلط ہیں کیونکہ تازہ پانی کا کم استعمال ہی جلد کی خرابی کی بڑی وجہ ہے،جس کے بعد خرابیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔
:فیشل کروانے کی عمر
جہاں تک فیشل کا آغاز کر نیکی صحیح عمر سے متعلق سوال ہے تو اس کے لئے عمر کا کوئی تعین نہیں ہے،تاہم فیشل مساج 25 سال کی عمر کے بعد کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پہلے جلد پختہ نہیں ہوتی،جس کی وجہ سے مساج چہرے کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔کچھ ماہر بیوٹیشنز کا کہنا ہے کہ فیشل مساج کروانے کی عمر کم از کم 20 سال ہوتی ہے مگر فیشل کے لئے چہرے کی جلد کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close