tickersبلاگپاکستانعلاقائی

نواز شریف کی پاکستان واپسی کا معاملہ: کیا حکومت قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتی ہے؟

پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے ان کی جماعت کے قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے متضاد دعووں کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کی غرض سے لندن بھیجے جانے کے عدالتی فیصلے میں شہباز شریف کی جانب سے ایک بیان حلفی جمع کرایا گیا تھا جس میں انھوں نے اپنے بھائی کی پاکستان واپس آنے سے متعلق ضمانت دی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق شہباز شریف نے ضمانت دی تھی کہ وہ چار ہفتوں کے بعد اپنے بھائی کو وطن واپس لیکر آئیں گے اور کیوںکہ ایسا نہیں ہوا اس لیے حکومت ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عدالت عالیہ کو اس حوالے سے ازخود نوٹس لیتے ہوئے میاں شہباز شریف کو طلب کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ ابھی تک لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اس لیے وفاقی حکومت نے اس ضمن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ درخواست کب تک دائر کی جائے گی۔

میاں شہباز شریف نے اپنے بیان حلفی میں کیا کہا تھا؟

شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں میاں نواز شریف کو بیرون ملک بھیجے جانے پر ان کی واپسی سے متعلق جو بیان حلفی دیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ ان کے بڑے بھائی میاں نواز شریف چار ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور یہ کہ اگر اس عرصے کے دوران نواز شریف کی صحت بحال ہو گئی اور ڈاکٹروں نے انھیں پاکستان جانے کی اجازت دے دی تو وہ وطن واپس آ جائیں گے۔

اس کے علاوہ اس بیان حلفی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس لندن ہائی کمیشن کی مصدقہ تصدیق کے بعد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھیجی جائیں گی۔

لاہور ہائی کورٹ میں میاں شہباز شریف کی جانب سے جمع کرایا جانے والا بیان حلفی

میاں شہباز شریف کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ میں دیے گئے اس بیان حلفی میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کبھی وفاقی حکومت کے پاس مصدقہ اطلاعات ہوں کہ میاں نواز شریف صحت مند ہونے کے باوجود لندن میں مقیم ہیں تو برطانیہ میں مقیم پاکستانی ہائی کمیشن کا کوئی اہلکار اس ضمن میں میاں نواز شریف کے معالج سے مل کر ان کی صحت کے بارے میں دریافت کر سکتا ہے۔

اس وقت میاں شہباز شریف کے علاوہ میاں نواز شریف کا بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کروایا گیا تھا جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی طرف سے دیے گیے بیان حلفی کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close