پاکستان

وہ محض اتفاق نہ تھا۔۔۔6 ستمبر

وہ محض اتفاق نہ تھا۔۔۔

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

ستمبر کا مہینہ وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔اس مہینے کی 6 تاریخ ایک ناقابل فراموش دن ہے۔جس نے تاریخ کو تاریخ لکھنے پر مجبور کردیا۔ کہ جب بھارت نے بزدلی اور خوف کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں پاکستانی سرحدوں پر نہایت احمقانہ انداز میں حملہ کیا تھا اور شاید اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہوئے کہ پاکستانی قوم سو رہی ہو گی مگر ہماری جری, بہادر اور غیور مسلح افواج اور ملی جذبے سے سرشار پاکستانی قوم نے اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت کی وہ درگت بنائی کہ ساری دنیا دنگ رہ گئی اور پاک فوج کے جانبازوں نے اپنے لہو سے ہماری تاریخ کے وہ روشن باب رقم کئے جن پر ہمیں فخر ہے۔

معزز قارئین۔
تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کے شیر جب جہاد کیلئے نکلے تو انہوں نے دریاؤں کے رخ پلٹ دیے۔ پہاڑوں کا سینہ چیر کے رکھ دیا اور کفر کی ہر دیوار ان کی ضرب مومن سے مٹی کا ڈھیر بنتی چلی گئی۔ کیونکہ مسلمان مجاہد کی ایک ہی آرزو ہوتی ہے۔ شہادت کی آرزو۔۔۔۔۔اللہ کی راہ میں جان لٹا دینے کی تمنا۔
ستمبر کی جنگ میں چشم فلک نے وہ نظارا بھی دیکھا جب پاک فوج کے شیر دل جوان دلوں میں شہادت کا جذبہ لیے, ہونٹوں پر نعرہ تکبیر اور اپنے شوق شہادت والے جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے پرخچے اڑاتے رہے اور یہی کہتے چلے گئے کہ۔۔۔

تختہ و تخت میں سے ایک چنا کرتے ہیں
ہم عجب شان سے دنیا میں جیا کرتے ہیں
توپ کیا چیز ہے؟ بندوق کسے کہتے ہیں؟
ہم تو ٹینکوں کی صفیں چیر دیا کرتے ہیں

معزز قارئین
سرحد پر پاک فوج دشمن سے برسرپیکار تھی تو پوری پاکستانی قوم اس کے شانہ بشانہ تھی۔ ہر پاکستانی اپنا پیسہ, اپنا مال, اپنی جان لڑا رہا تھا۔ ہسپتالوں کے آگے زخمی فوجی بھائیوں کیلئے خون دینے والوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔خوراک اور لباس اس تعداد میں آرہے تھے کہ سنبھالنا مشکل تھے۔ غرض دفاع پاکستان میں بچہ بچہ شریک تھا۔

معزز قارئین
آج قوم میں اس جذبے کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ محض اتفاق نہیں تھا کہ ہم نے بھارت جیسے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوادیے۔ وہ محض اتفاق نہیں تھا کہ ہم نے چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔ وہ محض اتفاق نہیں تھا کہ تعداد میں کم اور ہتھیاروں کی کمی ہونےکے باوجود ہم نے بھارت کو بھگانے پر مجبور کر دیا۔وہ محض اتفاق نہیں تھا کہ ایک ہی جھٹکے میں دشمن کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرا دیے گئے۔وہ محض اتفاق نہیں تھا کہ اقوام متحدہ کو اس جنگ میں کودنا پڑا اور جنگ بندی کروانا پڑی۔ وہ محض اتفاق نہیں تھا کہ دشمن پاکستان میں ناشتہ کرنے کا سوچ رہا تھا لیکن ستم ظریفی وقت دیکھیں اپنے دیس کا بھی کھانا نصیب نہ ہوا۔
معزز قارئین
وہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ وہ جذبہ شہادت تھا۔کیونکہ اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا جذبہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ رب کی دھرتی پر رب کی مخلوق کو خوشیاں دینے والے کبھی مرا نہیں کرتے وہ کبھی بدروحنین میں دکھائی دیتے ہیں تو کبھی اندلس کے ساحل پر, کبھی چونڈہ کا محاذ انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے تو کبھی چاغی کے بلندوبالا پہاڑ قوم کو حیات نو کا مثودہ سناتے ہیں۔کبھی وہ یورپ کے کلیساؤں میں اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرتے ہیں تو کبھی وہ کارگل کے پہاڑوں پر ہمہ تن گوش ہیں۔

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
تیری حیات کے مرکز سے دور رہتا ہے

معزز قارئین۔
پاکستان آج بھی دشمن کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ اسے پاکستان کا وجود گوارہ نہیں لیکن اب وہ سرحدوں پر جارحیت کی بجائے ملک کے اندر مذہبی, نسلی, اور صوبائی تعصب کی آگ بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔بھائی کو بھائی سے لڑانے کی سازش کررہا ہے۔
آج ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ ہم دشمن کے ہر ناپاک منصوبے اس کے غرور کی طرح خاک میں ملا دیں گے اور ہم پاکستان کا دفاع ہر قیمت پر کریں گے یہی 6 ستمبر کا پیغام ہے۔یہی پاکستان کی آن, بان, اور شان ہے۔

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close