کالم

کرونا اور پرائیویٹ سکول مافیا

 ڈیرے دار                پہلی قسط

کرونا اور پرائیویٹ سکول مافیا
سال 2019سے وطن عزیز سمیت ساری دنیا کرونا کی آفت سے نبرد آزما ہے۔کرونا نے ساری انسانیت کو جانی نقصان کے علاوہ مالی طور پر بھی مفلوج کر دیا ہے۔وطن عزیز میں اللہ کریم کا خاص کرم رہا ہے کہ اس آفت سے بہت کم جانی نقصان ہوا۔جس پر ہمیں ہر وقت بارگاہ الہی میں سجدہ شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بیماری سے ہمارے بہت سے ہم وطن متاثر ہوئے۔اللہ کریم انہیں صحت کاملہ عاجلہ سے نوازے آمین۔اس بیماری کا خوف پھیلانے میں میرے ملک کے ٹی وی چینلز نے بہت اہم کردار ادا کیا۔اس آفت کو اس قدر خوفناک کر کے پیش کیا گیا۔کہ بہت سے لوگ اس خوف سے ہی رخصت ہو گئے۔جہاں اس آفت نے ساری دنیا کو متاثر کیا جس پر بین الاقوامی اداروں نے بہت سے ممالک کے قرضہ جات تک معاف کیے۔یا پھر کم از کم سود ختم کر دیا۔اس بیماری سے متاثرہ ممالک کو بہت سی امداد ملی جس کا استعمال زیادہ تر ممالک میں لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کیا گیا۔لیکن وطن عزیزمیں اس امداد کو ہضم کر لیا گیا۔
جس طرح اس بیماری نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اسی طرح بہت سے غریب ممالک جس میں وطن عزیز کا بھی شمار ہوتا ہے بہت متاثرکیا۔کاروبار اور نوکریاں تباہی کی حدیں کراس کر گیں۔جہاں پر میں رہتا ہوں میرے قریب ایک بہت بڑی انڈسٹریل اسٹیٹ ہے جس میں تقریباً 700کے قریب فیکٹریاں ہیں۔جن میں سے تقریباً400کے قریب بند ہو گیں ہیں۔اورجو چل رہی ہیں ان میں اس قدر ڈاؤن سائنرنگ ہو گئی ہے کہ جہاں پر سو لوگ کام کر رہے تھے وہاں پر پچیس تیس لوگ رہ گئے ہیں۔یعنی اس آفت کی وجہ سے بے روزگاری بھی بہت زیادہ ہوئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ کاروبار خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں سب کے سب ہی بہت متاثر ہوئے ہیں۔
اس آفت سے بہت سے سفید پوش لوگ مقروض ہو چکے ہیں۔جو اپنے گھروں کے اخراجات بھی بہت مشکل سے پورے کر رہے ہیں۔ان حالات میں بھی یہ لوگ نہ تو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور اپنی شرم اور شرافت کی وجہ سے نہ کسی کو دھوکا دے کر ان سے پیسے لے سکتے ہیں۔اس عید پر آپ دیکھیں گے کہ نئے کپڑے اور جوتے وغیرہ خریدنے کے لیے جو بازاروں میں رش نظر آتے تھے وہ نہیں آئیں گے۔
لیکن ان حالات میں بھی اگر کوئی فائدئے میں رہا ہے تو وہ پرائیویٹ سکول ہیں۔یہ سکول نہیں مافیا ہیں۔جو مہنگائی اور کرونا کے دور میں بھی بچوں کے ماں باپ کا خون نچوڑ رہے ہیں۔سکول بند ہیں لیکن پھر بھی فیس کے چلان باقاعدگی سے گھروں میں پہنچ رہے ہیں۔سکولوں نے ریکوری کے لیے باقاعدہ طورپر اضافی لوگ بھرتی کئے ہوئے ہیں۔جن کا کام یکم تاریخ سے ماں باپ کو فون کرنا اور فیسوں کی ریکوری کرنا ہے۔پرائیویٹ سکول مافیا نے اتنے مردہ ضمیر سٹاف ممبر پتا نہیں تلاش کہاں سے کیے ہیں۔ماں باپ اگر انہیں اپنے کاروباری حالات کا بتائیں تو وہ پوری بات غور سے سنتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے لگتا ہے کہ شاید یہ ماں باپ کا دکھ محسوس کر رہے ہیں۔ بات مکمل ہوتے ہی کہتے ہیں کہ آپ نے بلکل ٹھیک فرمایا ہے پر فیس بنک ٹائم میں جمع کروا لیں کہیں بنک بند نہ ہوجائے۔
سکول مالکان سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ حکومت نام کی کوئی چیز اس ملک میں ہے ہی نہیں،آپ ہی کچھ خدا کا خوف کر لیں۔مرنا بھی ہے اور مر کے اللہ کو حساب بھی دینا ہے۔اتنا پیسا جو تم لوگ اکٹھا کرتے ہو کیا کروگے اس کا۔میں نے خود کرونا لاک ڈاؤن میں اپنے بچوں کی جو فیس ادا کی ہے اس میں لائبریری اور کمپیوٹر کی فیس بھی ادا کی ہے۔جو صرف افسوس کا مقام ہی نہیں بلکہ سکول مافیا کی مردہ ضمیری کی انتہا بھی ہے میری اس تحریر سے شاید کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہو شاید ان مافیا کو کوئی فرق نہ پڑئے لیکن میری کوشش ہو گی کہ اس کالم کی ایک کاپی وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم اور باقی تمام اداروں کو ارسال کروں گا۔
قیامت والے دن جب حشر کا میدان لگے گا جب ان مردہ ضمیروں کو رب کے حضور پیش کیا جائے گا تو میں بھی وہی ہو نگا۔کم از کم میں اپنے رب کے حضور یہ درخواست تو کر سکوں گا کہ یا رب کریم میں نے ان غنڈوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔یا اللہ میں نے انہیں آ پ کے کہر سے ڈریا تھا۔میں نے مظلوم ماں باپ کی آواز ایوان بالا تک پہنچائی تھی۔میں نے ان کے اس ظلم کو ظلم بھی کہا تھا۔میں نے ماں باپ کو ان بدمعاشوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے ان کے سامنے ڈٹ جانے کا درس بھی دیا تھا۔میں نے ہر پلیٹ فارم پر ان سکول مافیا کا ماتم بھی کیا تھا۔
میں ماں باپ جو میرا کالم پڑھ رہے ہیں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر حکمران ان کو اس ظلم سے روکنے میں ناکام ہیں تو آپ خود اٹھ کھڑے ہوں۔فیس صرف تب ہی دیں جب یہ آپ کے بچوں کو پڑھائیں۔اگر یہ جرمانے وغیرہ کرنے سے باز نہ آئیں تو سب مل کر ان پر ہلا بول دیں۔ان کے سکول زبردستی بند کردیں۔یا اپنے بچوں کو سال دو سال کے لیے سرکاری سکولوں میں داخل کرو الیں جب کرونا کی آفت گزر جائے تو پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close