پاکستانتعلیمدلچسپ و عجیبسائنس و ٹیکنالوجی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: کیا پاکستانی جوہری سائنسدان کی ایٹمی حملے کی دھمکی نے پاکستان، انڈیا جنگ ٹالی تھی؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: کیا پاکستانی جوہری سائنسدان کی ایٹمی حملے کی دھمکی نے پاکستان، انڈیا جنگ ٹالی تھی؟

’ہوائی اڈے سے مشاہد حسین سید انھیں سیدھا میرے گھر لے آئے۔ میرے گھر میں کوئی ملازم نہیں لہذا میری بیگم صاحبہ نے ہمارے لئے چائے بنائی تھی‘

28 جنوری 1987 کی سہ پہر پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے E-7 میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اکیلے تھے جب سکیورٹی افسر نے چند ‘بن بلائے مہمانوں’ کی آمد کی اطلاع دی۔

سکیورٹی افسر نے ڈاکٹر خان کو بتایا کہ مہمانوں میں سے ایک کو وہ پہچانتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے معروف صحافی مشاہد حسین سید ہیں۔ ڈاکٹر خان نے سکیورٹی افسر سے کہا کہ مہمانوں کو اندر لے آئیں اور انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں۔

ڈاکٹر خان مہمانوں سے ملنے آئے تو مشاہد حسین نے دوسرے مہمان کا تعارف کلدیپ نیئر کے طور پر کرایا جو انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے مشہور صحافی تھے۔

مشاہد حسین نے ڈاکٹر خان کو بتایا کہ کلدیپ نیئر شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان تشریف لائے ہیں۔ یہ تقریب اس ملاقات سے ایک ہفتے بعد ہونا تھی۔ چائے پیتے ہوئے ڈرائنگ روم میں موجود تینوں افراد کے درمیان انڈیا، پاکستان تعلقات، انڈین تاریخ اور ہندو مسلم تعلقات اور پاکستان کے جوہری پروگرام تک کے موضوعات پر طویل بات ہوئی۔ پاکستان کا جوہری پروگرام حال ہی میں ڈاکٹر اے کیو خان کی زیر نگرانی شروع ہو چکا تھا۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر اے کیو خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں وہ ملاقات یاد ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’مشاہد حسین کی شادی تھی اور کلدیپ نیئر اس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ ہوائی اڈے سے مشاہد حسین سید انھیں سیدھا میرے گھر لے آئے۔ میرے گھر میں کوئی ملازم نہیں لہذا میری بیگم صاحبہ نے ہمارے لئے چائے بنائی تھی۔‘

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close