کرائم و کورٹس

شہریوں کو ہنگامی بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے،اعظم سلیمان خان محتسب پنجاب

لاہور(نادر علی )سابقہ چیف سیکرٹری پنجاب کی ریٹائرڈ منٹ کے بعد بھی حکومت پاکستان کا ایماندار اور محب وطن افسران کو نہ چھوڑنے کا فیصلہ 100فیصد درست ثابت ہوا، نومنتخب محتسب پنجاب نے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی شہریوں کی داد رسی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے، خود دفتر میں بیٹھ کر سائلین کی داد رسی سمیت کھلی کچہریاں لگانے کا بھی فیصلہ، ریلیف پروسیس کو 90دن کی بجائے 45دن کرنے پر کام شروع کردیا گیا۔ ترجمان محتسب پنجاب نبیلہ غضنفر کے مطابق میجر (ر) اعظم سلیمان خان جو کہ سابقہ چیف سیکرٹری پنجاب رہ چکے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے محتسب پنجاب کے عہدے پر فائز کیئے گئے ہیں ۔ محتسب پنجاب کا محکمہ عوام الناس کوسرکاری محکمہ جات میں کرپٹ عناصر مافیا کی بدعنوانی اور حق تلفی کی صورت میں براہ راست بلاتاخیر و معاوضہ فوری انصاف فراہم کرنے کے حوالے سے انتہائی اہم ذمہ داری کا حامل ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصہ سے اس کی فعالیت توقع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے حکومت پاکستان کی جانب سے نڈر ، بے باک ، ایمانداراور عوام الناس کے درد کو سمجھنے والے افسر کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ عوام کو فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے4 اگست 2020کو بطورمحتسب پنجاب اپنے عہدے کا چارج سنبھالا اورتعیناتی سے لیکر ابتک کچھ ہی دنوں میں انھوں نے محتسب کے ادارے کو صحیح معنوں میں فعال بناتے ہوئے بروقت داد رسی اور انصاف کی فراہمی کا مستند ادارہ بنا نے کیلئے باقاعدہ عملی طور پر کام شروع کر دیا ہے جبکہ نئے میکانیزم کے نفاذ کے بعد اسے متاثرہ افرادکی شکایات کی بروقت داد رسی اور انصاف کی فراہمی کا مستند ادارہ بنا دیا جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ شکایت کنندہ کو ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ریلیف پروسیس کو 90کی بجائے 45دن کیا جا ئے گا۔اس حوالے سے ترجمان محتسب پنجاب نے بتایا کہ محتسب پنجاب نے ادارے کو عوام دوست بنانے اور تمام زیر التوا شکایات کو جلد نمٹانے سمیت متاثرہ شہریوں کی سہولت کیلئے بہت جلد کھلی کچہریاں لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے نئی حکمت عملی کے بارے میں عوام کی آگاہی کیلئے باقاعدہ میڈیا کمپین شروع کی جائے گی اور اس سلسلے میں لوگوں کی آن لائن شکایات کے اندراج اور نئی ایپس پر عملدرآمد کے طریقہ کار کے بارے میں بھر پور آگاہی مہم پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چلائی جائے گی اور متعلقہ افسران کے بارے میں بھی تفصیلات میڈیا میں جاری کی جائیں گی تاکہ لوگ براہ راست ان سے رابطہ کر سکیں۔وہ لوگ جن کے پاس انٹر نیٹ یا جدید ٹیکنالوجی کی سہولت موجود نہیں ہے وہ براہ راست اپنی شکایات درج کرواسکتے ہیں۔ ترجمان محتسب پنجاب نبیلہ غضنفر کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران محکمہ پولیس، ریونیو، ایجوکیشن، ہیلتھ، زکواة، بیت المال اور دیگر محکموںکے خلاف ٹوٹل 392 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے388کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ ان شکایات میں گوجر خان ضلع راوالپنڈی کے درخواست گزار داﺅد اختر قریشی کی 50 کنال کی اراضی کے ریکارڈ میں سے 5کنال اراضی غائب ہوگئی جس پر محتسب پنجاب کی جانب سے ایکشن لیتے ہی متعلقہ اداروں کی جانب سے تحقیقات و انکوائری کے بعد شہری کی 50کنال اراضی پوری ہوگئی ۔ حسن ابدال ضلع اٹک کی عابدہ پروین کا خاوند ایک مقامی انڈسٹری میں ملازم تھا اور دوران ملازمت 2018میں انتقال کر گیاتھاجس کی ڈیتھ گرانٹ کی ادائیگی پنجاب ورکر ز ویلفئیر بورڈ کی جانب سے گزشتہ اڑھائی سال سے تاخیر کا شکار تھی۔متاثرہ خاتون نے جیسے ہی محتسب پنجاب کو درخواست دی سیکرٹری پنجاب لاہور کو ذاتی طور پر محتسب آفس میں طلب کر کے ڈیتھ گرانٹ کی ادائیگی کا حکم دیا گیاجس پر عمل درآمد کرتے ہوئے5 لاکھ روپے کا چیک بطور ڈیتھ گرانٹ محتسب ضلع اٹک کے علاقائی دفتر میں عابدہ پروین کو وصول کرایا گیا۔گجرات کی رہائشی کبری بی بی کی بیٹی گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول میں ٹیچر تھی اور 4سال قبل وفات پا گئی تھی جس کی گریجوٹی کے لیے کبری بی بی نے محتسب آفس میں درخواست دے رکھی تھی جس پر عمل درآمد کراتے ہوئے کبری بی بی کو4سال بعد ایک لاکھ اکیس ہزار چھ سو اسی (Rs.1,21,680) روپے کا چیک جاری کیاکردیاگیا۔اسی طرح ضلع رحیم یار خان کی مہوش اسلم کو خدمت پنجاب زیور تعلیم سے وظیفے کی بحالی جبکہ شاہ رکن عالم ملتان کی رہائشی سیدہ منورہ فاطمہ کو اس کے والد کی محکمہ پولیس کی پنشن کی بحالی، اوکاڑہ کی شیداں بی بی کو محکمہ خاندانی منصوبہ بندی میں کام کرنے والے اس کے خاوند محمد اکرم کی وفات کے بعد 4لاکھ روپے مالی امداد کی ادائیگی کے علاوہ دیگر کئی محکموں سے موصول ہونے والی مختلف شکایات کا 30دن کے اندر ازالہ کر کے شکات کنندہ کو کورٹ کچہری کے بغیر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔منڈی بہاﺅالدین میں محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے اہل کار اور مقامی ٹھیکیداوں کی ملی بھگت سے ریت کی ٹرالی کی قیمت 600روپے کی بجائے1800 روپے وصول کی جارہی تھی جس پر مقامی شہری شاہد احمد نے پہلے محتسب پنجاب کو درخواست دی اور پھر بعد میں اپنی شکایت واپس لے لی لیکن محتسب پنجاب میجر (ر)اعظم سلیمان خان نے حقائق کی طے تک پہنچنے کے لئے دفتر محتسب پنجاب ایکٹ مجریہ 1997 کی دفعہ 17 کے تحت دو افراد پر مشتمل انسپیکشن ٹیم تشکیل دی جس نے مذکورہ بالا ایکٹ کی دفعہ 15 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تمام ریکارڈ قبضے میں لے کر معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو محکمہ مائنز اینڈ منرل اور جہلم ریجن کے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ودیگر عملہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت برتنے کے مرتکب پائے گئے جس پرمحتسب پنجاب نے ریت کے پٹہ داروں اور صارفین کے مابین باہمی اتفاق رائے سے پنجاب بھر میں ریت کی ٹرالی کا ریٹ 300 روپے فی 100 مکعب فٹ کے حساب سے طے کر دیا ہے۔دوسری جانب محکمہ محتسب پنجاب کے ملازمین جو کہ اپنے مطالبات کے حق میں عدالتوں میں کیس کیئے ہوئے ہیں ان کو بھی محتسب پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان کی جانب سے واضح احکامات جاری کرتے ہوئے پابند کیا گیا ہے کہ آپ کے جو بھی مطالبات ہیں ان کے لئے آپ لوگ عدالتوں میں کیس لگائے ہوئے ہو لیکن محکمہ کی جانب سے آپ مسلسل تنخواہیں لے کر گھر بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا ۔ جو جو محکمہ سے تنخواہیں لے رہا ہے وہ فوری طور پر اپنی ڈیوٹیوں پر واپس آئیں ۔ شہریوں کو محتسب پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان کا پیغام دیتے ہوئے ترجمان نبیلہ غضنفر کا کہنا تھا کہ شہریوں کیلئے محتسب پنجاب کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں اور لوگ بلا جھجک تشریف لاکر کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں اور اپنے مسائل حل کروائیں انشاءاللہ جلد سے جلد انصاف فراہم کیا جائے گا اور یہ عوام الناس کا بنیادی حق اور ہمارا فرض ہے ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close