کرائم و کورٹس

خاتون سے زیادتی، سی سی پی او نےمظلوم خاتون پر سوال اٹھادیے

 خاتون رات کو بچوں سمیت کیوں نکلی، گاڑی میں پیڑول کیوں نہیں ڈلوایا، سی سی پی او لاہور عمرشیخ نے مظلوم عورت پر ہی سوالات اٹھا دئیے، کہتے ہیں خاتون جی ٹی روڈ سے کیوں نہیں گئی، سی سی پی او نے تو مظلوم کو ہی گناہ گنہار بنا دیا۔

گزشتہ روز تھانہ گجر پورہ کی حدود میں سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، ذرائع کے مطابق خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی پر لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ راستے میں پٹرول ختم ہونے پر گاڑی رنگ روڈ پر رو ک لی۔موٹروے پر خاتون سے زیادتی کب، کہاں اور کیسے ہوئی؟؟

ڈاکوؤں نے خاتون پر تشدد کیا اور پھر زبردستی قریبی کرول جنگل میں لے گئے اور بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، ڈاکو ایک لاکھ روپے نقدی، طلائی زیورات و دیگر اشیا بھی لوٹ کر فرار ہوگئے۔

افسوس ناک واقعہ کے بعد سی سی پی او نے ملزمان کی گرفتاری کے بجائے خاتون پر ہی سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ سی سی پی او عمر شیخ نے کہا کہ خاتون کو آدھی رات ہی گھر سے کیوں نکلی؟ خاتون کو موٹروے سے جانے کے بجائے جی ٹی روڈ سے جانا چاہیئے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گھر سے نکلتے وقت گاڑی کا پیٹرول بھی چیک کرنا چاہیئے تھا۔ 

موٹروے واقعہ پر سی سی پی او عمر شیخ اس بیان کے بعد تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے رہنماؤں نے سی سی پی او عمر شیخ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔ جن میں وزیراعظم عمران خان کے بھانجے سمیت ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنما بھی شامل تھے۔ 

سنیئر صحافی حامد میر نے اس افسوسناک واقعہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ موٹروے پر گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کا خیال تھا کہ وہ ریاست مدینہ کی رہائشی ہے اس غلط فہمی میں وہ بچوں کے ساتھ گھر سے نکل کھڑی ہوئی اسے کیا پتہ تھا کہ اسکے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہو جائے گا اور سی سی پی او لاہور جنسی دہشت گردوں کی مذمت کی بجائے اس مظلوم خاتون کو قصور وار کہے گا۔ 

دوسری جانب تنقید کی زد میں آنے کے بعد سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ میں سیدھا آدمی ہوں اور سیدھی بات کرتا ہوں، میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ خاتون رات کے وقت بہت محفوظ سفر کرتی جو جی ٹی روڈ کا استعمال کیا جاتا، میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ یہ معاشرہ فرانس جیسا نہیں ہے اور اپنے آپ کو سیف رکھ کر سفر کرنا چاہیے تھا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close