tickersانٹر نیشنلبلاگسائنس و ٹیکنالوجی

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ: سورج کی شعاعوں سے بچنے کے لیے خلائی دوربین کی سن شیلڈ کھول دی گئی

دنیا کی سب سے بڑی خلائی دوربین جیمز ویب نے چمکتے ستاروں کی تصاویر حاصل کرنے کی جستجو کے مشن کے پہلے مرحلے کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے۔

اس خلائی دوربین کے کنٹرولرز نے منگل کے روز کامیابی سے ایک پتنگ نما بڑی ’سن شیلڈ‘ کو کھول کر دوربین کو سورج کی سخت شعاعوں سے محفوظ بنانے کا انتظام کر لیا ہے۔

سورج کی شعاعوں اور تپش سے حفاظت فراہم کرنے والی اس شیلڈ کا سائز ایک ٹینس کورٹ جتنا ہے۔ اب اس کے باعث جیمز ویب ٹیلی سکوپ کائنات میں سب سے دور چیزوں کے سگنلز کا پتا لگا سکے گی۔

یہ ٹیلی سکوپ اب کائنات کی کہکہشاؤں کے راز اور خلا میں چمکتے ستاروں کی تصاویر حاصل کرنے کے اگلے مرحلے میں اپنے آئینوں کو کھولنے پر توجہ مرکوز کرے گی۔ اس میں نصب سب سے بڑا آئینہ چھ اعشاریہ پانچ میٹر چوڑا ہے۔

پانچ تہوں والی اس سن شیلڈ کا کامیابی سے کھل جانا اور اپنے کام کو درست طریقے سے سرانجام دینا امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور ایروسپیس کمپنی نارتھ روپ گرومین کی انجینیئرنگ ٹیموں کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

بہت سے ماہرین نے جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی اس سن شیلڈ کے ڈیزائن پر خدشات کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس میں بہت سی موٹریں، گیئر گراریاں، چرخیاں اور تاریں شامل تھی۔ اور خلا میں اس کے مکمل طور پر کُھل جانے اور خلائی دوربین کو محفوظ بنانے پر انھیں تحفظات تھے۔

لیکن بڑے اور چھوٹے پیمانے پر برسوں کے تجربات اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس خلائی دوربین کے کنٹرولرز پہلے اس بڑی شیلڈ کی مختلف تہوں کو مکمل طور پر کھولیں گے اور بعد میں انھیں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیں گے۔

وہ لمحہ جب جیمز ویب خلائی دور بین نے خلا میں اپنے راکٹ سے علیحدہ ہو کر اپنے مشن کا آغاز کیا

اس ٹیلی سکوپ کی سن شیلڈ کی مختلف تہوں کی بناوٹ انسانی بال جیسی ہے۔ منگل کے روز اس شیلڈ کے نصب ہونے کے دوران اس کی پانچویں اور آخری تہہ بین الاقوامی وقت کے مطابق شام چار بج کر 58 منٹ پر کھل کر اپنی جگہ پر آئی تھی۔

ناسا ہیڈ کوارٹر میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ مشن کے پروگرام ڈائریکٹر گریگ روبنسن کا کہنا تھا کہ ‘خلا میں جیمز ویب خلائی دوربین کی سن شیلڈ کا کھل کر اپنی جگہ پر درست طریقے سے نصب ہونا ایک شاندار فتح اور اس مشن کی کامیابی کے لیے بہت اہم ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘انجینیئرنگ کے اس شاہکار کو خلا میں درست اور مکمل طریقے سے کام کرنے کے لیے ہزاروں پرزوں کو نہایت مہارت کے ساتھ کام کرنا پڑا ۔ ٹیم نے اس مرحلے یعنی سن شیلڈ کے کھل کر درست طریقے سے نصب ہونے میں پیچیدہ مگر جرات مندانہ کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ جو کہ اب تک جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے سب سے بڑے کاموں میں سے ایک تھا۔’

ناسا میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی تعیناتی کے سسٹم کے سربراہ الفونو سٹیوارٹ نے جوشیلے انداز سے کہا کہ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سے پہلے اس سلسلے میں تمام تجربات زمین پر کیے گئے تھے جہاں زمین کی کشش سقل موجود تھی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ یہ شیلڈ خلا میں کھولی گئی ہے جہاں کشش سقل صفر ہے۔

‘یہ پہلی مرتبہ تھا اور ہم اس میں بھرپور کامیاب ہوئے ہیں۔’

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close