tickersبلاگدلچسپ و عجیبصحتعلاقائی

بیماریوں کی جڑ موٹاپا

موٹاپا ایک طبی حالت ہے جس میں جسم کی اضافی چربی اس حد تک جمع ہو جاتی ہے کہ اس کا صحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔دراصل غذا کی اتنی مقدار لینے سے جو ہماری جسمانی ضروریات سے زائد ہو تو جسم کے چربی کے ذخائر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔لوگ عام طور پر اس وقت موٹے سمجھے جاتے ہیں جب ان کا باڈی ماس انڈیکس 25.0BMI یا اس سے زیادہ ہے،باڈی ماس انڈیکس (BMI) قد اور وزن کی بنیاد پر جسمانی چربی ناپنے کا ایک پیمانہ ہے جو بالغ مردوں اور عورتوں پر لاگو ہوتا ہے۔پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان میں موٹاپے کی بیماری بہت زیادہ ہو گئی ہے جس کی وجہ جسمانی مشقت میں کمی اور بہت زیادہ مرغن غذاؤں کا استعمال ہے۔ہائی BMI خطرے کا نشان ہے،یہ ایک ایسی بیماری ہے جو عام طور پر امیر ممالک میں پائی جاتی ہے لیکن اب یہ غریب ممالک میں بھی اپنے قدم جما چکی ہے۔


موٹاپے کو عام طور پر وزن کے لحاظ سے تین درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔پہلا درجہ کم موٹاپے یا ہلکے درجے کا ہوتا ہے،اس میں نارمل سے دس تا پندرہ فیصد وزن زائد ہوتا ہے،دوسرا درمیانہ درجہ ہوتا ہے جس میں پندرہ تا بیس فیصد وزن زائد ہوتا ہے۔تیسرے درجے میں بہت زیادہ موٹاپا ہے جس میں وزن بیس فیصد سے زائد ہوتا ہے۔ایک اور اہم بات جو سامنے آئی ہے وہ جسم کے مختلف حصوں پر چربی کی مقدار ہے یعنی چربی کہاں زیادہ جمع ہوئی ہے۔رانوں اور کولہوں پر جمع ہونے والی چربی کم نقصان دہ،جبکہ پیٹ پر جمع ہونے والی چربی خطرناک ہوتی ہے۔اس کا تعلق ذیابیطس،بلند فشار خون اور دل کے امراض سے ہوتا ہے۔
بہت زیادہ جسمانی وزن مختلف بیماریوں اور حالات سے منسلک ہے،خاص طور پر دل کی بیماریاں،ذیابیطس ٹائپ 2،نیند کی کمی،کینسر کی کچھ اقسام،اوسٹیو آرتھرائٹس اور دمہ۔نتیجتاً موٹاپا متوقع عمر کو کم کرتا ہے۔موٹاپے اور ڈپریشن کے درمیان ایک باہمی رابطہ پایا گیا ہے، جس میں موٹاپا ڈپریشن کے خطرے کو بڑھاتا ہے اور ڈپریشن بھی موٹاپے کے بڑھنے کے امکانات کا باعث بنتا ہے۔ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ موٹے لوگوں کو کووڈ ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔بالغوں اور بچوں میں بڑھتی ہوئی شرح کے ساتھ دنیا بھر میں موٹاپا موت کی ایک اہم وجہ ہے۔مردوں کے مقابلے خواتین میں موٹاپا زیادہ پایا جاتا ہے۔ماہرین اسے 21 ویں صدی کے سب سے سنگین عوامی صحت کے مسائل میں سے ایک کے طور پر دیکھتے ہیں۔
موٹاپے کی انفرادی،سماجی،اقتصادی اور ماحولیاتی وجوہات ہیں جن میں خوراک،جسمانی سرگرمی،آٹومیشن،شہرکاری،جینیاتی حساسیت، ادویات،ذہنی خرابی،اقتصادی پالیسیاں،اینڈوکرائن عوارض اور اینڈوکرائن میں خلل ڈالنے والے کیمیکلز شامل ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اگر پچاس کیلوریز روزانہ ضرورت سے زائد لی جائیں تو دس سال میں وزن نارمل سے باون کلو گرام زیادہ ہو سکتا ہے۔تمام عمر کے لوگوں میں موٹاپا ہو سکتا ہے مگر درمیانی عمر کے لوگ موٹاپے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔موٹاپے کا ایک اہم سبب زیادہ کھانا اور خاص طور پر زیادہ چکنائی اور میٹھی اشیاء کا استعمال ہے۔موٹاپے میں خاندانی وجوہات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ایسے لوگ جو سستی کا شکار ہوں اور کام کاج سے جی چرائیں اور بیٹھ کر کام کرنے کو ترجیح دیں موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔حمل کے دوران ماں کا وزن مسلسل بڑھتا رہتا ہے ایسا چربی کی مقدار میں اضافے کے سبب ہوتا ہے۔
موٹاپے کی روک تھام کے لئے ایک پیچیدہ نظام کار کی ضرورت ہوتی ہے،جس میں کمیونٹی،خاندان اور انفرادی سطح پر مداخلت،خوراک اور ورزش میں ماہرین کی طرف سے تجویز کردہ اہم مشوروں پر عمل کرنا شامل ہیں۔غذا کے معیار کو توانائی سے بھرپور غذاؤں کے استعمال کو کم کرکے،جیسا کہ چربی یا شکر کی مقدار کو کم کرکے اور غذائی ریشہ کی مقدار میں اضافہ کرکے بہتر کیا جا سکتا ہے۔بھوک کم کرنے یا چکنائی کے جذب کو کم کرنے کے لئے ،مناسب خوراک کے ساتھ دوائیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔اگر خوراک،ورزش اور دوائیں کارآمد نہیں ہیں تو معدے کے حجم یا آنتوں کی لمبائی کو کم کرنے کے لئے گیسٹرک سرجری کی جا سکتی ہے،جس کے نتیجے میں جلد پیٹ بھرا محسوس ہوتا ہے یا کھانے سے غذائی اجزاء کو جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔موٹاپے کے برے اثرات کو کم کرنے کے لئے وزن میں کمی لانا ازحد ضروری ہے۔اس مقصد کے لئے غذا میں چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس میں کمی کے ساتھ سگریٹ نوشی اور الکوحل سے پرہیز کرنا بھی لازمی ہے۔
یاد رکھیں کہ غذائی کنٹرول سے موٹاپے سے نجات کے ساتھ ساتھ ذیابیطس اور بلڈ پریشر پر بھی کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس لئے صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو مٹھائیوں اور مرغن غذاؤں کو چھوڑ کر سبزیوں اور پھلوں کو استعمال کرنا شروع کر دیں۔زیادہ وزن والوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ غذائی کنٹرول یعنی پابندیوں کو مسلسل جاری رکھنا پڑے گا تاکہ جمع شدہ چربی کا خاتمہ ہو۔
یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ ابتدائی چند کلو وزن تو آسانی سے اور تیزی سے کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ ابتداء میں گلوکوز کی توڑ پھوڑ اور پانی کے اخراج کی وجہ سے وزن میں تیزی سے کمی آنا ہے اور پھر یہ رفتار دھیمی پڑ جاتی ہے کیونکہ تین سے چار ہفتوں کے بعد صرف چربی کی بافتوں کی ٹوٹ پھوٹ سے ہی وزن میں کمی واقع ہوتی ہے جو ایک سست رفتار عمل ہے۔وزن کم کرنے کے لئے ورزش اگرچہ اہم ہے مگر صرف ورزش سے وزن میں خاطر خواہ کمی کرنا ممکن نہیں اس کے ساتھ غذا میں مناسب ردو بدل کرنا بھی ضروری ہے۔مریض کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ کون سی غذا کتنی مقدار میں استعمال کرنی چاہیے۔نیز کون سی غذا میں کتنی کیلوریز پائی جاتی ہیں۔مثلاً اگر ایک انسان کو ہزار کیلوریز کی ضرورت ہو تو اس کو ایک سو گرام نشاستہ پچاس گرام پروٹین اور چالیس گرام چکنائی کی روزانہ ضرورت ہو گی۔اس کے علاوہ غذا میں مختلف نمکیات اور وٹامنز کا شامل ہونا بھی ضروری ہے۔
اگر ایک ساٹھ کلو گرام کے وزن والے انسان کی بات کی جائے تو اسے نارمل زندگی گزارنے اور روزمرہ کے کام کاج کے لئے تقریباً تیس کیلوریز فی کلو گرام کی ضرورت ہوتی ہے یعنی 1800 کیلوریز فی دن چاہئیں۔اس کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ساٹھ کلو گرام وزن قائم رکھنے کے لئے اسے 1800 کیلوریز کی ضرورت ہے لیکن وزن کم کرنا ہو تو کیلوریز کی مقدار کو کم کرنا ہو گا۔کیونکہ وزن بڑھنے کا بنیادی سبب ضرورت سے زیادہ کیلوریز لینا اور جسمانی سرگرمیوں کا نہ ہونا ہے۔اگر ایک ایسے شخص کا وزن بڑھ جائے جس کا وزن 60 کلو گرام ہونا چاہیے تو اس کو وزن کم کرنے کے لئے تقریباً 1300 کیلوریز روزانہ استعمال کرنی چاہئیں اس طرح اس کا وزن ایک ہفتے میں ایک کلو گرام کم ہو سکتا ہے لیکن اس بات کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے کہ غذا میں وٹامنز،پروٹین اور معدنیات کی مناسب مقدار شامل ہونی چاہئے یعنی متوازن غذا استعمال کرنا ازحد ضروری ہے۔
جب وزن 60 کلو گرام ہو جائے تو اس وقت پھر 1800 کیلوریز والی غذا بحال کر دینی چاہیے لیکن خیال رکھیں کہ اس سے زیادہ کیلوریز کا استعمال نہ ہو کیونکہ اس سے وزن پھر بڑھ جائے گا یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ غذا میں تازہ پھل،تازہ سبزیوں،گوشت،دودھ،انڈے اور چکنائی کی مناسب مقدار شامل رہنی چاہیے۔ایک عادت کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیں اور وہ ہے باقاعدگی سے ورزش۔کوشش کریں کہ ورزش میں کبھی ناغہ نہ ہو کیونکہ وزن کنٹرول کرنے اور اس کو قائم رکھنے کے لئے یہ زندگی کا لازمی جزو ہے۔آج کل ڈائیٹنگ پر بہت زور دیا جاتا ہے یعنی کھانا بہت کم مقدار میں کھانا۔مگر یاد رکھیں کہ اس کا فائدہ تو ہوتا ہے مگر کبھی کبھی اس سے جسم کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح وزن کم کرنے کے لئے بھوک کم کرنے والی ادویات کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔کبھی کبھی میٹابولزم کو تیز کرنے کے لئے تھائی رائیڈ ہارمون کا استعمال بھی کیا جاتا ہے لیکن ان ادویات کے استعمال سے نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ جسم کے مخصوص حصوں سے چربی کم کرنے کے لئے سرجری کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔سرجری کے عمل میں معدہ چھوٹا کرنا، معدے کا بائی پاس،چھوٹی آنت میں عمل جراحی بھی ایک موثر طریقہ ہے۔یوگا سے بھی وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ یوگا کے کچھ آسن ایسے ہوتے ہیں جو وزن کم کرنے میں بہت موثر ثابت ہوتے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close