tickersانٹر نیشنلبلاگدلچسپ و عجیب

ترکی کی معیشت میں گراوٹ: شرح سود کے ساتھ ’تجربہ‘ صدر اردوغان اور ترکی کو کتنا مہنگا پڑ رہا ہے؟

ترکی میں حالیہ معاشی بحران کے باعث بے تحاشہ مہنگائی ہوئی ہے جبکہ ملک میں افراط زر میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترک حکومت نے ملک میں بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھا دی ہیں۔

اب جبکہ ترکی میں افراط زر 36 فیصد تک بڑھ گیا ہے، اسی دوران بجلی کی قیمتوں میں 50 فیصد سے 125 فیصد اضافہ ہوا ہے اور گیس کی قیمت میں فی خاندان 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، تاہم حکومت کے حامی معیشت میں اس رجحان کو ’مثبت‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ اپوزیشن نے اسے ’تباہ کُن‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترکی کی سالانہ افراط زر کی شرح گذشتہ ماہ 36.1 فیصد تک بڑھ گئی، جو گذشتہ 19 سال میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

اس بڑھتی مہنگائی نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کی غیر روایتی ’سود کی شرح میں کمی‘ کی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کرنسی کے بحران کے اثرات کو واضح کیا ہے۔

ترکی کے انرجی مارکیٹ ریگولیٹر نے یکم جنوری کو بجلی کی قیمتوں میں استعمال کے لحاظ سے 50 فیصد سے 125 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ ملک کے قومی قدرتی گیس ڈسٹری بیوٹر نے گیس کی قمیت میں اسی دن فی خاندان 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔

ترک شماریاتی ادارے کے اعداد و شمار نے پیر کو ظاہر کیا کہ صرف دسمبر میں، صارفین کی قیمتوں کے اشاریے میں ساڑھے تیرہ فیصد اضافہ ہوا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس اضافے نے ’ترکوں کی بچت اور آمدن کو نگل‘ لیا ہے اور وہ اس اقتصادی بحران سے بہت پریشان ہیں۔

ترک کرنسی لیرا نے گذشتہ سال ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر 44 فیصد کھوئی کیونکہ ترکی کے مرکزی بینک نے کرنسی اور قیمت کے استحکام پر قرض اور برآمدات کو ترجیح دینے کے لیے اردوغان کے معاشی پروگرام کے تحت شرح سود میں کمی کی۔

پیر کی شام ترکی میں لیرا کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوئی۔

مزید مہنگائی کا خدشہ

کچھ ماہرین اقتصادیات نے پیش گوئی کی ہے کہ موسم بہار تک افراط زر کی شرح 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جب تک کہ ترکی کی مانیٹری پالیسی کی سمت کو تبدیل نہیں کیا جاتا ہے۔ امریکی ادارے ’گولڈمین سیکس‘ نے کہا کہ یہ (افراط زر) آنے والے سال کے بیشتر حصے میں 40 فیصد سے اوپر رہے گی۔

استنبول میں اسپن کنسلٹنگ کے بانی پارٹنر اوزلم ڈیریکی سینگول نے کہا کہ ’شرح سود کو فوری طور پر اور جارحانہ طور پر بڑھایا جانا چاہیے کیونکہ یہ فوری طور پر ضروری ہے۔‘

تاہم مرکزی بینک کی جانب سے ایسا کرنے کا امکان نہیں ہے، یہ کہتے ہوئے اوزلم نے مزید کہا کہ سالانہ افراط زر ’ممکنہ طور پر مارچ تک 40 فیصد سے 50 فیصد تک پہنچ جائے گی‘ جب انتظامی قیمتوں میں اضافے کو اس میں شامل کر دیا جائے گا، جس میں کم از کم اجرت میں 50 فیصد اضافہ بھی شامل ہے۔

اعداد و شماریات کی ایک معروف ویب سائٹ ’ٹریڈنگ اکنامکس‘ کی درجہ بندی کی فہرست کے مطابق، ترکی اب دنیا میں آٹھویں سب سے زیادہ افراط زر کا حامل ملک ہے، جو زمبابوے اور ارجنٹائن کے بعد اور ایران اور ایتھوپیا سے آگے کی درجہ بندی بنتی ہے۔

اردوغان کی اے کے پارٹی کے پہلی بار اقتدار سنبھالنے سے دو ماہ قبل کے حالت کی نسبت، پچھلا سال تقریباً دو دہائیوں میں لیرا کے لیے بدترین سال تھا، جب کہ صارفین کے لیے قیمتوں کا اشاریہ، سی پی آئی، ستمبر سنہ 2002 کے 37.0 فیصد کی سب سے کم سطح تک پہنچنے کے بعد سے سب سے زیادہ تھا۔

لیکن پیر کے روز ترک صدر اردوغان کی توجہ تجارتی اعداد و شمار پر تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات گذشتہ سال ایک تہائی اضافے سے 225 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

انھوں نے ایک تقریر میں کہا ’ہمیں صرف ایک تشویش ہے: برآمدات، برآمدات اور برآمدات۔

ترک صدر نے ترکی کی معیشت بہتر حاصل کرنے کی شہرت پائی تھی

تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، ان کی حکومت کے دور میں برآمدات میں چھ گنا اضافہ ہوا۔ مقامی کرنسی کو سہارا دینے اور اس کے ختم ہونے والے ذخائر کو بھرنے کے لیے مرکزی بینک نے پیر کو کہا کہ اُس نے برآمد کنندگان سے کہا ہے کہ وہ اپنی ہارڈ کرنسی کی آمدنی کا 25 فیصد لیرا کے عوض بینک کو فروخت کریں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ’سود کی شرح کے خود ساختہ دشمن اردوغان‘ نے گذشتہ سال مرکزی بینک کی قیادت کو تبدیل کیا تھا۔ بینک نے ستمبر سے پالیسی کی شرح کو 19 فیصد سے کم کر کے 14 فیصد کر دیا ہے، جس سے ترکی کو شدید منفی حقیقی پیداوار ملی ہے جس نے بچت کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

اس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور لیرا میں گراوٹ نے گھریلو اور کمپنی کے بجٹ کو بھی متاثر کر دیا ہے، سفری منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے اور بہت سے ترکوں کو اخراجات میں کمی کے لیے مجبور کیا ہے۔

بہت سے لوگ پچھلے مہینے استنبول میں سبسڈی والی روٹی کے لیے قطار میں کھڑے تھے، جہاں میونسپلٹی سطح کے حکام کا کہنا ہے کہ زندگی گزارنے کی قیمت ایک سال میں 50 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

26 سالہ مہمت، جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور استنبول میں پولسٹر کے طور پر اپنا کام کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ’ہم اب اپنے دوستوں کے ساتھ کسی کیفے میں بیٹھ کر کافی نہیں پیتے۔ ہم باہر نہیں جاتے، صرف گھر سے کام کے لیے اور دوبارہ گھر واپس آتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ کھانے کے چھوٹے ’پورشن‘ خرید رہے تھے اور ان کا خیال ہے کہ مہنگائی سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔

ترکی کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ عارضی عوامل قیمتوں کو بڑھا رہے ہیں اور افراط زر کے لیے ایک غیر مستحکم کورس کی پیشن گوئی کی ہے، جو کہ حالیہ مہینوں میں تقریباً 20 فیصد رہی ہے اور زیادہ تر پچھلے پانچ برسوں میں دوہرے ہندسوں پر رہی ہے۔ ترکی کے مرکزی بینک کے مطابق، بالآخر اکتوبر میں یہ شرح 18.4 فیصد پر ٹھہر جائے گی۔

بڑھتی ہوئی درآمدی قیمتوں کی عکاسی کرتے ہوئے، دسمبر کے پروڈیوسر پرائس انڈیکس میں ماہ بہ ماہ 19.08 فیصد اور سال بہ سال 79.89 فیصد اضافہ ہوا۔

سالانہ نقل و حمل کی قیمتوں میں 53.66 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سی پی آئی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کی اوسطاً قیمتوں میں 43.8 فیصد اضافہ ہوا۔

سنہ 2023 کے وسط میں ہونے والے انتخابات سے قبل اقتصادی بحران نے اردوغان کے رائے شماری کے اشاریوں کو بھی متاثر کیا ہے اور ان کی پذیرائی میں کمی آئی ہے۔

ریاست کی حمایت یافتہ مارکیٹ کی مداخلتوں کے بعد اور اردوغان کی جانب سے لیرا کے ذخائر کو کرنسی کے اتار چڑھاؤ سے بچانے کے لیے ایک سکیم کا اعلان کرنے کے بعد، دو ہفتے قبل تیزی سے بحال ہونے سے پہلے دسمبر میں لیرا نے ڈالر کے مقابلے میں 18.4 کی ریکارڈ کم ترین سطح کو چھو لیا تھا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close