tickersبلاگپاکستاندلچسپ و عجیبعلاقائی

پاکستان، انڈیا تعلقات: سوشل میڈیا پر ہونے والی ’محبت‘ بہاولپور کے نوجوان کو انڈیا کے صحرا لے گئی

یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ محبت لوگوں کو جوڑتی ہے لیکن اگر بغیر سوچے سمجھے محبت میں کوئی بڑا قدم اٹھا لیا جائے تو یہی محبت ناصرف آپ کو بیچ صحرا پہنچا سکتی ہے بلکہ سلاخوں کے پیچھے بھی۔

پاکستان کے شہر بہاولپور کے 21 سالہ رہائشی محمد احمر کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے جب گذشتہ ماہ ممبئی میں اپنے محبوب سے ملنے کی خاطر اُنھوں نے انڈیا، پاکستان سرحد غیرقانونی طریقے سے عبور کی لیکن اپنی منزل پر پہنچنے کے بجائے وہ انڈیا کے ایک صحرائی ضلع میں پہنچ گئے اور اب انڈین سکیورٹی فورسز اُن سے تفتیش کر رہے ہیں اور وہ زیرِ حراست ہیں۔

معاملے کی تفتیش کرنے والے افسران کے مطابق گرفتاری کے وقت اُن سے پانچ سو روپے برآمد ہوئے لیکن کوئی اسلحہ نہیں ملا، تاہم سکیورٹی حکام کو احمر سے سُننے کے لیے محبت کی ایک داستان ضرور ملی۔

تفتیش سے منسلک افسران کے مطابق محمد احمر سوشل میڈیا کے ذریعے ممبئی کی رہائشی ایک لڑکی سے رابطے میں تھے۔ بہاولپور میں اُن کے ایک رشتے دار کے مطابق احمر کی دوستی فیس بک پر انڈین لڑکی سے ہوئی اور وہ اس لڑکی سے گھنٹوں طویل گفتگو کرتے تھے۔

انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق احمر نے حکام کو بتایا کہ اُنھوں نے ویزا کی درخواست دی تھی لیکن وہ نا منظور ہو گئی جس کے بعد اُنھوں نے سرحد عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔

سری گنگا نگر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ آنند شرما کے مطابق احمر سے ہونے والی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ممبئی میں ایک لڑکی سے رابطے میں تھے اور اُن کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔

آنند شرما کے مطابق دوران تفتیش احمر نے بتایا کہ لڑکی نے اُن سے کہا کہ ’تم ممبئی آ جاؤ‘ اور وہ باڑ عبور کر کے اُدھر آ گئے۔

’وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ باڑ عبور کرنے کے بعد وہ ممبئی پہنچ جائیں گے، گویا ممبئی باڑ کے دوسری طرف ہے۔‘

حالیہ دنوں میں پاکستان انڈیا سرحد پار کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں

واضح رہے کہ انوپ گڑھ اور ممبئی کے درمیان 1400 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

مقامی ایس ایچ او پھول چند نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چار دسمبر کی رات کو بہاولپور کے قریب راجستھان کے صحرائی ضلع سری گنگا نگر کے انوپ گڑھ علاقے میں مبینہ طور پر انڈیا، پاکستان بین الاقوامی سرحد پار کرنے کے بعد احمر کو انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔

ایس پی آنند شرما نے بتایا کہ ’وہ باڑ پار کر کے انڈیا کی طرف آ گئے تبھی اُنھیں بی ایس ایف کے ایک اہلکار نے دیکھا اور اُنھیں خود کو سکیورٹی فورس کے حوالے کرنے کو کہا، جس پر اُنھوں نے خود کو اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔‘

بے گناہی ثابت ہونے پر واپس بھیجا جائے گا

ایس ایچ او پھول چند نے کہا ہے کہ گرفتار لڑکے سے پوچھ گچھ اور اُن کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ تفتیشی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اس کمیٹی نے ممبئی کا دورہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ جس لڑکی سے محبت کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ حقیقی شخص ہیں، وہ اُن سے یقینی طور پر رابطے میں تھے اور ان کا مقصد غیر قانونی نہیں تھا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close