tickersانٹر نیشنلبلاگعلاقائی

انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذہبی سیاحت، کیا یہ تعلقات بہتر کرنے کی کوئی نئی کوشش ہے؟

پاکستان ہندو کونسل دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے ہر ماہ مذہبی مقامات کا دورہ کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ کونسل کا دعویٰ ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں بھی اس کام میں تعاون کر رہی ہیں۔

ہندوستان، امریکہ اور خلیجی ممالک کے ہندو عقیدت مند نئے سال کے موقع پر پاکستان میں 100 سال پرانے شری پرمہنس جی مہاراج مندر کی تزئین و آرائش کر رہے ہیں۔

ہندو یاتریوں کے اس وفد میں کل 173 عقیدت مند ہیں جن میں پانچ سے چھ امریکی، کچھ سپین کے شہری، کچھ دبئی سے آنے والے اور تقریباً 160 ہندوستانی ہیں۔ یہ عقیدت مند پاکستان میں موجود ہندو اور سکھوں کی عبادت گاہوں پر جاتے ہیں۔

پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رمیش کمار واکوانی کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا اقدام ہے اور اس کے ذریعے 74 سال بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمار قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور 2002 سے سیاست میں ہیں۔

انھوں نے بتایا ’میرا خیال ہے کہ جو محبت شروع ہوئی ہے اس کو آگے بڑھاتے ہوئے میں ہندوستان آ کر عقیدت مندوں کو خواجہ نظام الدین اور اجمیر شریف لے کر جاؤں گا، ہر ماہ اس طرح کی مذہبی یاترا منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام قریب آئیں۔ مجھے امید ہے کہ اس سے ان دونوں کی نفرت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔‘

لیکن کیا یہ اقدام صرف پاکستان ہندو کونسل کا ہے یا دونوں ممالک کی حکومتوں کا بھی اس میں کوئی کردار ہے؟

ڈاکٹر رمیش کا کہنا ہے کہ ’آپ اسے پاکستان ہندو کونسل کی پہل کہہ سکتے ہیں۔ کونسل نے اس کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور اب ایئر انڈیا کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہی ہے۔‘

’یہ دونوں ممالک کی حکومتوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا، حکومتوں نے اس کے لیے اجازت دی ہے، تب ہی لوگوں کو ویزے مل رہے ہیں اور عقیدت مندوں کو سکیورٹی دی جا رہی ہے۔‘

کونسل کے اس اقدام کے تحت 173 یاتریوں کا وفد پاکستان میں ہندوؤں اور سکھوں کی عبادت گاہوں کا دورہ کر رہا ہے۔ سفر کا آغاز تیری گاؤں میں بنے شری پرمھانس جی مہاراج مندر سے بھی ہوا۔ مندر میں سنت شری پرمہنس جی مہاراج کی سمادھی ہے۔

ہندو عقیدت مندوں کا یہ وفد پیر کو ملک کی پارلیمنٹ قومی اسمبلی کے سپیکر سے ان کی دعوت پر ملاقات کے علاوہ چیف جسٹس سے بھی ملاقات کرے گا۔

مہاتما پرم نتیانند، ایک عقیدت مند ہیں جو مدھیہ پردیش کے گوالیار سے مذہبی سیاحت کے لیے پاکستان گئے تھے، اس وفد کا حصہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہم ٹیری صاحب کو دیکھ کر واپس آرہے ہیں، ہمیں ہر جگہ سہولت نظر آئی، پاکستان ایئرلائنز نے ایئرپورٹ پر اچھے انتظامات کیے تھے اور پولیس بھی مدد کر رہی ہے۔

دسمبر 2020 میں، سخت گیر مذہبی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ہجوم نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک کے تیری گاؤں میں تعمیر کردہ ایک مندر میں توڑ پھوڑ کی اور اسے آگ لگا دی۔ اس واقعے پر پوری دنیا میں شدید تنقید کی گئی تھی۔

ڈاکٹر رمیش کا کہنا ہے کہ ’حکومت پاکستان نے ہمارا ساتھ دیا اور اب مندر کو مکمل طور پر دوبارہ بنایا گیا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی کوششوں سے یہاں تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور اسی لیے ہم نے تیری مندر سے مذہبی سیاحت کا آغاز کیا ہے۔‘

گذشتہ سال چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد دیوالی کی تقریبات میں شرکت کے لیے مندر پہنچے تھے ۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہر انسان کو اپنے مذہب کی حفاظت کا حق ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close