tickersانٹر نیشنلبلاگدلچسپ و عجیب

امریکہ چین اور روس: کیا چینی سفیر کے امریکہ کے لیے دیے گئے بیان نے روس کے پرانے زخموں پر نمک چھڑکا ہے؟

روس کے رہنما اب بھی سوویت یونین کے خاتمے کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ گذشتہ ماہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے تین دہائیوں بعد بھی یہ سانحہ روسی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔

پوتن کا کہنا تھا کہ ‘ہم جسے سوویت یونین کہتے ہیں وہ تاریخی روس تھا۔‘ پوتن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب سوویت یونین کا حصہ یوکرین اب روس کی جانب سے حملے کے خطرے سے دوچار ہے۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سرد جنگ کا اختتام ہوا اور کوئی بھی ایسا ملک نہ بچا جو امریکی اجارہ داری کا مقابلہ کر سکے۔

اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ دنیا اب ایک ہی ملک میں رائج نظام کے تحت چلے گی۔ تاہم اب ایک نئی سرد جنگ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس مرتبہ امریکہ کا مقابلہ روس نہیں چین کر رہا ہے۔

چین نے اب تک اس ممکنہ یا ‘جاری‘ سرد جنگ کے بارے میں جو بھی کہا ہے یہ صرف امریکہ کے لیے ایک چیلنج نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے روس کے پرانے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا بھی کہا جا رہا ہے۔

امریکہ میں چین کے سفیر چن گانگ نے گذشتہ پیر کو ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ اگر نئی سرد جنگ جاری ہے تو چین سوویت یونین نہیں ہے جو ہار جائے گا۔ چن گانگ نے امریکہ کو تنبیہ بھی کی کہ وہ تائیوان کے معاملے میں احتیاط سے کام لے کیونکہ یہ تنازع دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا سکتا ہے۔

چن گانگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات ہونا بہت مشکل ہیں کیونکہ چین کے جوہری ہتھیار امریکہ کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ چن گانگ کا بیان 24 جنوری کو چینی سفارت خانے کی جانب سے بھی شائع کیا گیا تھا۔ انھیں گذشتہ سال جولائی میں امریکہ میں چین کا سفیر بنایا گیا تھا۔

ان کے بیان کی تفصیل کچھ یوں ہے: ‘ایسا کیوں لگتا ہے کہ نئی سرد جنگ واپس آ رہی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں کچھ لوگ سرد جنگ کی ذہنیت کا شکار ہیں اور چین کے ساتھ سوویت یونین جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ لیکن چین سوویت یونین نہیں ہے اور امریکہ وہ نہیں جو 30 سال پہلے تھا۔ لہٰذا دونوں ممالک کا پرامن انداز اپنانا ہی وسیع تر مفاد میں ہے۔’

چن گانگ کا مزید کہنا تھا کہ ‘چین نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجوہات کا بغور جائزہ لیا ہے اور اس سے سبق سیکھا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ‘چین کی کمیونسٹ پارٹی سوویت یونین کی طرح ضدی نہیں ہے۔ امریکہ اب چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ چین میکسیکو اور کینیڈا کے بعد امریکہ کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔’

انھوں نے کہا کہ رواں سال دونوں ممالک کی باہمی تجارت 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

کیا چینی سفیر کا یہ بیان امریکہ کے لیے خطرہ ہے یا وہ روس کو بتا رہا ہے کہ اگر اس کی قیادت نے ‘غلطیاں’ نہ کی ہوتیں تو سوویت یونین کا خاتمہ نہ ہوتا؟ کیا چین بھی روس کو آئینہ دکھا رہا ہے کہ اس کی کمزوریاں کہاں تھیں؟

سوویت یونین کی کمزوری

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سینٹر برائے روسی اور وسطی ایشیائی سٹڈیز کے پروفیسر سنجے پانڈے کہتے ہیں کہ ‘یہ بالکل درست ہے کہ چین نہ صرف امریکہ کو دھمکیاں دے رہا ہے بلکہ وہ روس کو یہ بھی بتا رہا ہے کہ آپ کی قیادت کمزور ہے، کیونکہ سابقہ رہنماؤں کی نگرانی میں سوویت یونین ٹوٹا۔’

پروفیسر پانڈے کہتے ہیں کہ ’ماؤزے تنگ کے بعد چین میں معاشی انقلاب لانے کا سہرا ڈینگ شیاؤ پنگ کو جاتا ہے۔ سوویت یونین کے پاس ڈینگ شیاؤپنگ جیسا لیڈر نہیں تھا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ‘ڈینگ کی اقتصادی اصلاحات کے بعد ہی چین نے دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک طور پر جگہ بنائی۔ دوسری جانب سوویت یونین ایسا نہیں کر سکا۔ ادھر چین کی پالیسی واضح تھی۔ یہاں طاقت کا محور ریاست ہے اور اس بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ تاہم معاشی اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے حوالے سے مقابلہ بھی ہو گا اور شفافیت بھی۔

‘سوویت یونین اس دوران معاشی سطح پر تو خود کو مضبوط نہیں کر سکا، اس کی سیاسی سطح پر بھی گرفت ڈھیلی ہو گئی۔’

جب ڈینگ شیاؤ پنگ نے سنہ 1978 میں معاشی اصلاحات شروع کیں تو عالمی معیشت میں چین کا حصہ صرف ایک اعشاریہ آٹھ فیصد تھا جو 2017 میں بڑھ کر 18.2 فیصد ہو گیا۔

چین اب نہ صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے بلکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یعنی جب 15ویں اور 16ویں صدی میں عالمی معیشت میں اس کا حصہ 30 فیصد کے قریب تھا۔

عام طور پر چین کو طاقتور بنانے میں جن تین رہنماؤں کا کردار نمایاں سمجھا جاتا ہے، ان میں ماؤ زی تنگ، ڈینگ شیاؤ پنگ اور موجودہ رہنما شی جن پنگ شامل ہیں۔

ڈینگ شیاؤ پنگ کے معاشی انقلاب کے 43 سال بعد یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایک بار پھر چین شی جن پنگ جیسے مضبوط لیڈر کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

کیا چین نے روس کے زخموں پر نمک چھڑکا؟

سنجے پانڈے کا کہنا ہے کہ چین بیشک سوویت یونین کا نام لے کر امریکہ کو دھمکی دے رہا ہے لیکن اس کے سفیر کا بیان پوتن کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

پروفیسر پانڈے کا کہنا ہے کہ ‘پوتن سوویت یونین کے ٹوٹنے کو ایک المیہ قرار دیتے ہیں اور چین ان کی مثال استعمال کرتے ہوئے جب ایسے بیانات دے گا کہ ہم سوویت یونین نہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ روس کے لوگ بے چینی محسوس کریں گے۔’

پروفیسر پانڈے کہتے ہیں کہ ‘سوویت یونین کی ضد جس کے بارے میں چینی سفیر بات کر رہے ہیں وہ درست ہے۔ اگر سوویت یونین کے رہنماؤں نے اپنی معاشی اور ٹیکنالوجیکل سطح پر خود کو تبدیل کر لیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہانگ کانگ کی یونیورسٹیوں سے تیانمن سکوائر کے قتل عام کی یادگاروں کو ہٹا کر، چین نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ تائیوان کے تنازع سے سختی سے نمٹے گا اور اس کے مرکزی سیاسی نظام کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔’

سنجے پانڈے کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کی باہمی تجارت کا 700 ارب ڈالر تک پہنچنا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود ایک دوسرے پر کتنا انحصار ہے۔

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان تجارتی روابط نہیں تھے لیکن امریکہ کا چین پر انحصار کئی حوالوں سے بہت زیادہ ہے۔ امریکہ چاہ کر بھی چین کے ساتھ دو طرفہ تجارت نہیں روک سکتا۔

اس سال 29 مارچ کو یروشلم پوسٹ کے سابق ایڈیٹر اور معروف پلٹزر ایوارڈ یافتہ کالم نگار بریٹ سٹیفنز نے نیویارک ٹائمز میں ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا ‘ہم دوسری سرد جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟’

اس تحریر کے آغاز میں سٹیفنز نے لکھا کہ ‘پہلی سرد جنگ میں امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کے پاس سوویت یونین اور اس کے سیٹلائٹس کے خلاف خفیہ ہتھیار تھے۔ یہ ہتھیار نہ تو سی آئی اے نے بنائے اور نہ ہی یہ ڈارپا یا کسی لیب سے آیا۔ یہ ہتھیار کمیونزم تھا۔’

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close