tickersبلاگپاکستاندلچسپ و عجیبکرائم و کورٹس

کشمیر میں تشدد کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل: ’ہم لوگ اب جی بھر کر ہنسنے کے قابل بھی نہیں رہے‘

اسما بٹ کا سکول میں داخلہ 2008 کے دوران ہوا تھا۔ اسی سال کشمیر میں سرکاری زمین امرناتھ مندر کو دیے جانے پر احتجاجی تحریک شروع ہو گئی جسے دبانے کی سرکاری کاروائیوں میں 60 سے زیادہ نوجوان ہلاک ہوئے۔

اسما نے ذرا ہوش سنبھالا تو دو سال بعد ایک مبینہ فرضی جھڑپ کے خلاف پھر ایک بار احتجاجی تحریک چلی جس میں 100 سے زیادہ نوجوان مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے محروم بچپن

کرفیو، قدغنوں اور خوف کی فضا میں اسما جب 2016 میں آٹھویں جماعت کے امتحان کی تیاری میں مصروف تھیں تو کشمیر کے نوجوان مسلح کمانڈر برہان وانی کی ایک جھڑپ میں ہلاکت کے خلاف کشمیر پھر اُبل پڑا۔

سرکاری فورسز نے مظاہرین کے خلاف براہ راست فائرنگ کے علاوہ چھرّے بھی استعمال کیے جس کی وجہ سے سینکڑوں نوجوان بینائی کھو بیٹھے۔ اسما اس سب سے متاثر ہو رہی تھیں لیکن موسیقی کے ذوق نے انہیں زیادہ مایوس نہیں ہونے دیا۔ کشیدگی کی وجہ سے آٹھویں کا امتحان منعقد نہیں ہوا اور اس کے ساتھ ہی سکول بھی ایک سال کے لیے بند ہوگ

اسماٴ کو انڈیا کی جنوبی ریاست تمِل ناڈو کے ثقافتی دورے کے لیے منتخب کیا گیا تھا

دسویں جماعت کے امتحان میں کامیابی کے بعد اسما نے سرینگر کے کوٹھی باغ ہائر سیکنڈری سکول میں داخلہ لیا تو انھوں نے دیگر مضامین کے ساتھ موسیقی کا بھی انتخاب کیا۔

بارہویں درجے میں اُنہیں یقین تھا کہ وہ موسیقی میں نام کمائیں گی۔ سکول کی طرف سے ایک بہت بڑے میوزِک ایونٹ میں اسماٴ کو قوالی پیش کرنا تھی۔ وہ ایک ماہ سے ریاض میں مصروف تھیں کہ اچانک 5 اگست 2019 کی صبح انڈین پارلیمان میں کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کا اعلان ہوتے ہی کشمیر میں ہر طرح کے فون رابطے اور انٹرنیٹ بند کردیے گئے اور کئی ہفتوں تک کرفیو نافذ رہا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close