tickersانٹرٹینمنٹبلاگپاکستانکرکٹہماری ٹیم

پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 9 رنز سے ہرا دیا

ویسٹ انڈیز کی ٹیم دو دنوں میں دوسری مرتبہ ہار گئی لیکن منگل کی شب وہ میچ کو اس مقام پر لے آئے کہ اس کی شکست جیت میں بھی تبدیل ہو سکتی تھی۔

پہلے اسے یہ موقع پاکستان کی اننگز میں ملا تھا لیکن افتخار احمد اور شاداب خان کی جارحانہ بیٹنگ نے صورتحال بدل دی اور پھر جب اس کی بیٹنگ آئی تو برینڈن کنگ اور روماریو شیفرڈ پاکستانی بولرز کے اعصاب پر سوار نظر آئے لیکن محض 9 رنز کے فرق سے بازی اپنے حق میں نہ کر سکے۔

رنز بابر سے روٹھے ہوئے ہیں

بابراعظم پیر کے روز میچ کی چوتھی گیند پر آؤٹ ہوئے تھے۔ چوبیس گھنٹے بعد وہ میچ کے تیسرے اوور میں صرف سات رنز پر پویلین واپس جاتے ہوئے نظر آئے۔ اکیل حسین کی گیند محمد رضوان نے بیک ورڈ پوائنٹ کی طرف کھیلی اور ایک رن کے لیے اپنے کپتان کو مجبور کردیا لیکن بابراعظم کی رفتار ہیڈن والش کی تھرو سے تیز نہ تھی جس پر اس میچ میں وکٹ کیپنگ کرنے والے نکولس پورن نے بیلز گرادیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں چار نصف سنچریوں کے بعد سے رنز ان سے روٹھے ہوئے لگ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف تین اننگز میں وہ بالترتیب 7، 1 اور 19 رنز بنا پائے تھے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف ان دو اننگز کے بعد اب یہ بات اہمیت اختیار کرگئی ہے کہ کیا وہ ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھ سکیں گے؟ ان کے اور نمبر دو بیٹسمین انگلینڈ کے ڈاوڈ ملان کے درمیان صرف چار پوائنٹس کا فرق ہے۔

فخر زمان کے ہاتھ بھی ان دو میچوں میں کچھ نہ آسکا۔ پچھلے میچ کی طرح اس بار بھی وہ دس رنز سے آگے نہ جاسکے اور اکیل حسین کی گیند پر نکولس پورن نے مستعدی سے انہیں سٹمپ کر دیا۔

اکیل حسین نے ایک بار پھر کفایتی بولنگ کرتے ہوئے اپنے چار اوورز کو صرف سولہ رنز پر ختم کیا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں چار نصف سنچریوں کے بعد سے رنز ان سے روٹھے ہوئے لگ رہے ہیں

پاکستان نے پاور پلے کے چھ اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 50رنز بنائے تھے۔ اننگز کو استحکام دینے کی ذمہ داری ایک بار پھر محمد رضوان اور حیدر علی نے سنبھالی لیکن اس مرتبہ ان کی شراکت طول نہ پکڑ سکی۔

48 رنز کی اس شراکت کا خاتمہ سمتھ کی گیند پر شائی ہوپ نے شارٹ کور پر ڈائیو مارتے ہوئے کیچ لے کر کیا اور یہ اہم وکٹ کسی اور کی نہیں بلکہ محمد رضوان کی تھی جنہوں نے چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 38 رنز بنائے تھے۔

ویسٹ انڈیز کی رہی سہی امیدوں کا صفایا شاہین شاہ آفریدی نے کردیا جنہوں نے اپنے تیسرے اوور میں تین وکٹیں حاصل کر ڈالیں

محمد رضوان جب آؤٹ ہوئے تو بارہویں اوور میں پاکستان کا سکور 86 تھا لیکن ان کے جانے کے بعد پاکستان نے حیدر علی اور محمد نواز کی وکٹیں جلد گنوائیں۔ حیدر علی 31 رنز بنا کر سمتھ کی گیند پر بروکس کے ہاتھوں ڈیپ پوائنٹ پر کیچ ہوئے۔

محمد نواز نے سوئپ کے ذریعے گیند کو باؤنڈری تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن ڈیپ مِڈوکٹ پر روومین پاول نے کیچ لے کر ہیڈن والش کو اہم وکٹ دلادی ۔اس مرحلے پر پانچ کھلاڑی111 رنز پر آؤٹ ہوچکے تھے۔

آصف علی کے ایک چھکے نے امید دلائی کہ وہ اسی طرح کے مزید شاٹس کھیلیں گے لیکن 9 رنز پر شیفرڈ نے انہیں واپسی کی راہ دکھا دی۔

کنگ نے 43 گیندوں پر6 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 67 رنز بنائے

افتخار احمد کے دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے بنائے گئے 32 رنز نے پاکستان کے سکور کو ایک سو اکتالیس تک پہنچایا اور پھر شاداب خان نے بھی اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے پاکستان کی اننگز کو 8 وکٹوں کے نقصان پر 172 رنز پر مکمل کیا۔

شاداب خان کی صرف بارہ گیندوں پر 28 رنز کی اننگز میں تین چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close