tickersبلاگدلچسپ و عجیب

مصری فرعون کی حنوط شدہ لاش یا ممی کو پہلی بار ڈیجیٹل طریقے سے کھول لیا گیا

امنحتب اول کی کھوپڑی کا سی ٹی سکین

ایک قدیم مصری فرعون کی حنوط شدہ لاش یا ممی کو ہزاروں سال بعد پہلی مرتبہ جدید ڈیجیٹل انداز میں ’کھول‘ کر اس پر تحقیق کی گئی ہے۔

امنحتب اول، جن کا دور 1525 سے 1504 قبل از مسیح تک رہا، کی حنوط شدہ لاش کو 140 سال قبل دیر البحری کے مقام پر دریافت کیا گیا تھا۔

مگر آثار قدیمہ کے ماہرین نے اسے کھولنے سے گریز کیا تھا تاکہ اس کے چہرے کے ماسک اور پٹیوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

اب کمپیوٹڈ ٹوپوگرافی (سی ٹی) سکین سے اس فرعون اور اس کی تدفین سے متعلق نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

قاہرہ یونیورسٹی میں طب کے شعبے میں ریڈیولاجی کی پروفیسر ڈاکٹر سحر سلیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہمیں اس بادشاہ کا چہرہ دیکھنے کو ملا جو تین ہزار سال سے زیادہ عرصے تک چھپا ہوا تھا۔‘ وہ فرنٹیئر اِن میڈیسن نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کی لیڈ مصنف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ امنحتب اول کے چہرے کی خصوصیات ان کے والد احموس اول سے ملتی جلتی ہیں، جو قدیم مصر کے 18ویں شاہی سلسلے کے پہلے فرعون تھے، جنن کی باریک ٹھوڑی، پتلی سی ناک، گھنگریالے بال اور دانت کچھ حد تک باہر کو نکلے ہوئے تھے۔

محققین نے یہ بھی معلوم کیا کہ امنحتب اول کا قد پانچ فٹ چھ انچ تھا اور قریب 35 برس کی عمر میں ان کی موت ہوگئی تھی۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close