کالم

سفر ملایشیاء

   ڈیرے دار

سفر ملایشیاء
دسمبر 2014ء کی بات ہے کہ ہم کچھ دوستوں نے ملایشیاء کی سیر پر جانے کا پروگرام بنایا۔ملایشیا ء کا ویزہ پاکستانی پاسپوررٹ رکھنے والوں کو بہت آسانی سے تقریباًRs;7,000/-روپے فیس ادا کر کے مل جاتا ہے۔ہوائی جہاز کی ٹکٹ تقریباًRs;70,000/-روپے تک مل جاتی ہے۔اس وقت پاکستان سے ملایشیاء کا سفر کرنے کے لیے PIAاور ملنڈو ائیرویز (ملایشین ائیر لائن)سب سے موثر ہیں۔ملایشیاء پاکستان سے 4488کلو میٹر کی دوری پر جنوب مشرقی ملک ہے۔جس کا رقبہ تین لاکھ تیس ہزار آٹھ سو تین مربع کلومیٹر آبادی تین کروڑ اٹھارہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔جس میں مختلف قومیں آباد ہیں 91%ملائی،22%چینی،12%مقامی،7%انڈین ہیں آبادی کا 62%مسلمان،19%بد ھ مت،7%ہندو،9%عیسائی آباد ہیں۔ان میں سے ہر کسی کو مکمل مذہنی آزادی حاصل ہے۔
ملایشیاء کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تاریخ بہت قدیم ہے۔اسلام یہاں دسویں صدی میں عرب تاجروں کے ذریعے پہنچا اس سے پہلے یہاں بد ھ مت اور ہندو آبادتھے۔چودویں اور پندرویں صدی میں اسلام مالے میں پہنچا۔مالے ملایشیاء کا سب سے پرانا نام ہے جو اس وقت ایک جزیرہ تھا۔
ملایشیا ء میں اٹھاریوں صدی میں برٹش گورنمنٹ قابض ہو گئی۔ جس طرح دنیا کے تمام ممالک میں آزادی حاصل کی گئی۔پھر جس طرح دنیا کے تمام ممالک میں آزاد ی پسند لوگ منظر عام پر آئے۔تحریکیں چلیں اور زور بازوسے آزادی حاصل کی گئی ملایشیاء میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔شاہی خاندان میں 8فروری 1903ء کو پیدا ہونے والے ٹنکو عبدالرحمن نے آزادی کی ایک بھر پور جنگ لڑئی جس کے نتیجے میں 1955ء میں ملایشیاء برٹش سے آزاد ہو گیا۔ڈاکٹرمہاتیر محمد کو جدید ملایشیاء کابانی مانا جاتا ہے۔1965ء میں ملایشیا ء نے سنگا پور کو ان کی مرضی کے خلاف آزاد کردیا۔
ملایشیا ء میں ایک بات جو مجھے ذاتی طور پر بہت پسند آئی وہ یہ تھی۔وہاں پر پانچ سال سے بڑی ہرمسلم لڑکی پورے لباس اور سرپر سکارف پہنے نظر آئی۔جو ان کی شناخت دوسروں سے الگ کر دیتی ہے۔ ملایشیاء کی تاریخ اس قدر قدیم ہے کہ یہاں پر چالیس ہزار سال قبل مسیح کی زندگی کے آثار ملتے ہے۔یہ تو تھی ملایشیاء کی تاریخ۔
اب بات کرتے ہیں ملایشیاء کے ٹور کی۔پاکستان سے سات گھنٹے ہوائی سفر کے بعد ہم ملایشیا ء درالحکومت کوالالمپورپہنچے۔ائیر پورٹ سے شہر تک جانے کے لیے آپ ٹیکسی یا ٹرین کا استعما ل کر سکتے ہے بحرحال ہمیں ہمارے ایک دوست ندیم وڑائچ لینے آئے ہوئے تھے۔ہم تقریباً45منٹ سفر کرنے کے بعد شہر میں پہنچ گئے۔جب ہم شہر میں داخل ہورہے تھے تو حیرت انگیز منظر تھا فلک بوس عمارتیں صاف شفاف سٹرکیں گردو غبار سے پاک آسمان،زمین سے اوپر چلتی ٹرینیں بہت خوب صورت منظر پیش کر رہی تھیں۔جب ہم ہوٹل پہنچے سامان وغیرہ رکھا اور دوستوں کے ساتھ کھانہ کھانے نکل گئے۔ملایشیا ء میں حلال کھانہ ہر جگہ میسر ہے واپس ہوٹل پہنچے تو میں نے ملایشیا ء کی ہسٹری جاننا چاہی۔گوگل کی مدد سے بے شمار معلومات ملیں۔ملایشیا ء میں بولی جانے والی زبا نیں ملائی،باسا،تامل،انگریزی،ہندی،اردواور پنچابی ہیں۔کوالالمپورملایشیا ء 17لاکھ افراد کی آبادی کے ساتھ ملایشیا ء کا سب سے بڑا اور پررونق شہر ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ بارشیں بھی یہاں پر ہی ہوتی جن کاریکارڈ 253دن کا ہے۔ہم نے ایک دن سٹی ٹور کے لیے مختص کیا۔ہم صبح جلدی تیار ہوئے سب سے پہلے ہم نے ناشتہ کیا۔وہاں پر عجیب ناشتہ ہوتا ہے۔چاول کڑی،فش اور ساتھ میں شربت کا گلاس،ہم حیران ہوئے کہ وطن عزیز میں ہم کھانے کے ساتھ یا بعد میں میٹھا پانی پی لیں تو کہا جاتا ہے ہیضہ ہو جائے گا لیکن ملایشیا میں تو نہیں ہوتا۔خیر ناشتے سے فارغ ہوئے تو ہم گاڑی کی بجائے ملایشیا کی ٹورسٹ بس پر کوالالمپوردیکھنے کا فیصلہ کیا۔ہم نے اپنے ہوٹل سے مونوریل کے اسٹیشن تک پیدل سفر کیا وہاں سے مونوریل کی ٹکٹ خریدیں اور ریل میں سوار ہو کر KLسنٹرل پہنچے ہم نے وہاں سے ایک کارڈ خریدا جو سٹی ٹور اور اس کے ساتھ بہت سی ٹورسٹ جگہوں کا انٹری پاس تھا۔ہم بس پر سوار ہوئے ہم پچھلے کئی دنوں سے گاڑیوں پر کوالالمپورگھوم رہے تھے لیکن جو مزہ اپرڈک بس پر آیا پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔یہ بس بلکل ویسی ہی تھی جیسی ہمارے لاہور میں چلتی ہیں۔ہم نے اس بس کے اوپر والے حصے میں بیٹھ پر سارا کوالالمپور دیکھا۔اس دن بارش کی ہلکی سی فوار چل رہی تھی جس نے سفر کو اور بھی خوبصورت بنا دیا۔
ایک دن ہم سب نے پتالنگ سٹریٹ جانے کا فیصلہ کیا۔اسے اگرچائنہ مارکیٹ بھی کہہ لیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔یہ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا لمبا بازار ہے جہاں سے ٹورسٹ مختلف قسم کی شاپنگ کرتے ہیں یہ بڑھے مالز کی نسبت بہت سستا بازار ہے۔اس میں ٹیٹو بنانے والے بہت بیٹھے ہیں۔ آسٹریلین اور بہت سے غیر ملکی اپنے جسموں پر ٹیٹو بنوا رہے تھے۔یہاں پر کھانے پینے کی بھی بہت سستی دوکانیں تھیں ان دنوں چائینز نیوائیر چل رہا تھا اس لیے اس بازار کو برقی قمقوں سے بہت زیادہ چراغا ں کیا گیا تھا۔ایک شام میرے دوست ڈاکٹر ظہور احمد جو عرصہ دراز سے ملایشیا میں مقیم ہیں وہ ہمیں کھانہ کھلانے کے لیے ایک جگہ کوالاسلانگو لے گئے۔وہاں پر بہت خوبصورت سسٹم دیکھا۔انہوں نے شہر سے تقریباً25کلو میٹر دور ایک ویران سی جگہ پر اپنا ریسٹورنٹ بنایا ہوا تھا۔وہاں پرانہوں نے بہت سے تالاب بنائے ہوئے تھے۔جن میں ہر سائز اور وزن کی مچھلیاں زندہ تیر رہی تھیں۔آپ خود جا کر مچھلی پسند کرتے ہیں وہ اسے پکڑ کر وزن کرتے ہیں اور وہی آپ کو بنا کر دے دیتے ہیں۔وہاں پر سی فوڈ کی بہت سی ورائٹی موجود تھی۔اس کے علاوہ مرغیاں،بطخ اور مرغابیاں بھی موجود تھیں آپ جو چاہیں کھا سکتے ہیں۔

           ملایشیاء میں سیرو سیاحت کی غرض سے جانے والے لوگوں کے لیے کوالالمپور شہر،بکٹ بن تانگ،کے ایل سنٹرل،باتو کیوز،گنتگ ہائی لینڈز وغیرہ بہت معروف جگہیں ہیں۔لیکن جو لوگ مزدوری یا کاروبار کی غرض سے ملایشیا ء کا رخ کرنا چاہتے ہیں ان سے میری گزار ش ہے کہ وہاں جانے کا ارادہ ترک کر دیں۔وہ محنت مزدوری کے لیے موزوں ملک نہیں ہے۔
    تقریباً20دن کے کوالمپور میں سٹے کے دوران میں نے سٹڈی کیا کہ ملائشیا ء میں آزاد ی کے بعد تعلیم پر بہت توجہ دی ہے اس وقت ملایشیا ء میں شرح تعلیم 94.85%ہے دنیا کے بہت سے ممالک سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے ملایشیاء کا رخ کرتے ہیں۔
     دوسرے ممالک کی طرح ملایشیا ء میں بھی کھیلوں کے فروغ پر بہت کام ہوا ہے بیڈ منٹن ان کا قومی کھیل لیکن فٹ بال زیادہ کھیلا جاتا ہے۔کوالالمپور 20دن گزارنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ لنکاوی دیکھا جائے۔جب ہم کوالالمپور سے لنکاوی جا رہے تھے راستے میں پروگرام میں تھوڑی تبدیلی آگئی کہ ہم پنانگ بھی دیکھیں گے۔پینانگ ان کا انڈسٹریل ایریا ہے وہاں پر پورٹ بھی ہیں اور کینٹ ایریا بھی۔پینانگ ان کا بہت ڈیلویپڈایریا ہے۔پینانگ ایک بہت بڑا شہر ہے اور غیر ملکیوں کی زیادہ تر تعداد اسی شہر میں ہے جو محنت مزدوری کے لیے ملایشیا گئے ہوئے ہیں۔پینانگ حالانکہ کوالالمپور سے تقریباً ساڑھے تین سو کلو میٹر دور تھا لیکن وہاں پر پھرتے یہی گمان ہو رہا تھا کہ شاید ہم کوالالمپور میں ہی پھر رہیں ہیں۔زندگی کی ضرورت کی تمام اشیاء موجود تھیں۔ڈویلپمنٹ اتنی کے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی۔اس ڈویلپمنٹ کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومتوں کی پلاننگ کیا چیز ہوتی ہیں۔اگر یہ ہر شہر کو اسی طرح ڈویلپ نہ کرتے تو سارا لوڈ کوالالمپورپر آجاتا۔ایک چیز جو ان کی طرز تعمیر میں مشترک نظر آئی کوالالمپور اور پنیانگ میں سڑک کے دونوں اطراف میں جتنی میں بلڈنگ بنی ہوئی تھیں ان میں آگے کی چھ فٹ کا برآمدہ بنا ہوا تھا۔اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو ملایشیامیں بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور دوسرا دھوپ۔یہ برآمدے شہریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سایہ اور بارش سے بچاؤکا کام کرتے ہیں۔اگلے دن ہم وہاں سے آیلوسٹار کے لیے روانہ ہو گئے۔اگر ہم چاہتے تو پنیانگ سے ہی بحری جہاز کے ذریعے لنگ کاوی جا سکتے تھے۔کیونکہ ہمارے پاس گاڑی تھی اور ہمیں پنیانگ میں محفوظ پارکنگ نہیں مل سکی تھی جہاں پر ہم پندرہ دنوں کے لیے گاڑی کھڑی کر سکتے تھے۔  
    ہم کوالالمپور سے براستہ ہائی وے ایلو سٹار کی طرف نکلے تقریباًپانچ گھنٹے سفر کر کے بعد ایلو سٹار پہنچے وہاں پر ایک پارکنگ میں گاڑی پارک کی اوربذریعہ بحری جہاز لنکا وی کے لیے نکل پڑے تقریباً چار گھنٹے بحری سفر کے بعد لنکاوی پہنچ گئے۔ھوٹل میں سامان رکھا ناشتہ کیا اور جزیرے کی سیر کے لیے روانہ ہو گئے راستے میں ہم نے ربڑ کے باغات دیکھے تو زندگی میں پہلی دفعہ پتہ چلا کہ ربڑ درختوں سے پیدا ہوتی ہے۔ملایشیاء قدرتی ربڑ ایکسپورٹ کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جو تقریباً9لاکھ چھیانویں ہزارچھ سو میٹرک ٹن ربڑ سالانہ ایکسپورٹ کرتا ہے 
   لنکاوی واقع ہی بہت خوبصورت شہر ہے اور اس کی خوبصورتی اور زیادہ لگنے لگی جب ہمیں پتہ چلا کہ یہ جزیرہ جناب ڈاکٹر مہاتیر محمد کا آبائی شہر ہے۔

خیر یہ تھیں ملایشیا ء کے بارے میں معلومات جو میں نے اس تحر یر میں مختصر اً آپ کے ساتھ شئیر کیں تفصیلات اور بھی بہت ہے لیکن وہ ایک کالم میں تحریر نہیں ہو سکتیں۔
برحال اللہ کریم اگر موقع دے تو ملایشیاء کا ٹور ضرور کریں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close