کالم

پی۔ٹی۔آئی حکومت اب مکمل کانفیڈینس میں ہے

خان صاحب آج ایک بار پھر مبارکباد کے مستحق ہیں سینٹ کے انتخابات کا مرحلہ اختتام کو پہنچا کیونکہ حکومت نے ایک بڑا معرکہ سر کیا ہے۔ سینٹ  انتخابات کے حوالےسے عام لوگوں کی طرف سے تو یہی رائے سننے کو مل رہی تھی کہ یوسف رضا گیلانی چئیرمین سینٹ کی سیٹ پر براجمان ہونگے مگر سیاسی فضا نے اپنا رخ بدلا اور حکومتی امیدواروں کو کامیابی ملی۔اور عمران خان کی حکومت پر جو خطرات کے بادل منڈلا رہے تھےاب مکمل طور پر چھٹ چکے ہیں۔کیونکہ حکومت کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر سینٹ میں اپوزیشن کا چئیرمین ہوگا تو حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور نہ صرف یہاں بلکہ پنجاب میں بھی سیاسی حملہ ہو سکتا تھا۔ قسمت نے حکومت کا ساتھ دیا اور عمران خان نے عوام کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی ایک بڑا سرپرائز دیا ہے ۔اپوزیشن جوکہ دن رات عمران خان کو گھر بیجھنے کے دعوے کر رہی تھی سینٹ  کا معرکہ PTI کے نام ہونے سے اپوزیشن کے نا صرف   تمام  دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں بلکہ اپوزیشن اب اپنی پوزیشن بھی کافی حد تک کمزور کر چکی ہے۔ عمران حکومت کی اس کامیابی کی بڑی وجہ جو چیز بنی وہ عمران خان کا عین صحیح وقت پر قومی اسمبلی سے بطور وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کر لینا تھا۔اس بات پر تو اب کوئی شک نہیں کہ کپتان سیاست کے میدان کا پکا کھلاڑی ہے جو موقع پر چوکا مارنا اور وقت پر اپوزیشن کی وکٹیں اڑانا خوب جانتا ہے۔  اپوزیشن کی طرف سے چئیرمین سینٹ کے امیدوار پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو 42ووٹ ملےجبکہ ان کے مقابلے میں Ptiکے صادق سنجرانی 48 ووٹ حاصل کرکے چئیرمین سینٹ بننے میں کامیاب ہوئے ۔اسی طرح ڈپٹی چئیرمین کی سیٹ پر JUIF کے مولاناعبدالغفور حیدری جوکہ 44 ووٹ حاصل کر سکے  اور PTI کے مرزا محمد آفریدی نے 54 ووٹ حاصل کرکےیہ مقابلہ  10ووٹوں کے فرق سے جیت کر ڈپٹی چئیرمین کی سیٹ پکی کی۔اپوزیشن اس ناکامی کی وجہ بتاتے ہوئے کہتی ہے کہ ہمارے 7 ووٹ جان بوجھ کر ریجکٹ کیے گئے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ طریقہ کہ ووٹ کس طرح ضائع کرنا ہے اس کا طریقہ تو گیلانی صاحب کے بیٹے نے خود ہی بتایا تھا اب اپنے ہی بتائے ہوئے طریقے سے وہ خود ہار گئے ہیں تو ہنگامہ ہے ۔یقیناً اپوزیشن کے لیے یہ بات پریشان کن ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے 7 ووٹ ریجکٹ ہوئے  یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے 7 ووٹرز نے اپنا پینترا کیوں بدلا گویا ان سات اراکین کو اپوزیشن کے امیدواروں پر اعتماد نہیں تھا۔ان سات ووٹرز نے جان بوجھ کر ووٹ ضائع کیے اور وہ ووٹ عبدالغفور حیدری کو بھی نہ مل سکے جبکہ مرزا محمد آفریدی کو انہیں سات ووٹرز نے ووٹ دئیے اس طرح سے اب سینٹ میں حکومت کی پوزیشن مستحکم  ہوگئی ہے ۔عمران خان تو بہت عرصے سے  اوپن بیلٹ انتخابات کےلئے تحریک چلا رہے تھے ۔اور وہ خفیہ ووٹنگ کے حق میں نہیں تھے ۔ خان صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر الیکشن سیکریٹ بیلٹ سے ہونگے تو اپوزیشن ہی روئے گی۔حکومتی پاور پاس ہونے کے باوجود سیکریٹ بیلٹ کے خلاف بیان سے پتا چلتا ہے کہ عمران خان صاف شفاف الیکشن چاہتا تھا۔اپوزیشن کا یہ کہنا ہے کہ پریزائڈنگ آفیسر نے جان بوجھ کر ووٹ ریجکٹ کئے جبکہ مہر گیلانی صاحب کے نام کے اوپر لگی ہے ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ تو مہر گیلانی صاحب کے نام کے آگے لگی ہے نہ سنجرانی صاحب کے جوکہ درست طریقہ تھا ۔مہر لگی ہے تو ان دونوں کے نام کے درمیان اور مہر دونوں ناموں کو ٹچ کر رہی ہے اس لحاظ سے تو یہ ووٹ  ریجکٹ ہی بنتے ہیں اب اپوزیشن نے عدالت کا دروازے پر دستک دینے کا ارادہ کر لیا ہے۔بہر حال عدالت سے فیصلہ جو بھی آئے کپتان کی حکومت نے اب میدان مار لیا ہے اس وقت عمران خان کی حکومت کی آئینی اور جمہوری پوزیشن بہت مضبوط ہوچکی ہے کیونکہ چند روز قبل وہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ اب وقت ہے کہ خان صاحب ایسے اقدامات کر جائیں جون کی حکومت کو 2023 کے الیکشن تک لے جائے کیونکہ گزشتہ ڈھائی سالوں میں حکومت کی کوئی خاص پرفارمنس نہیں رہی اب آئندہ ڈھائی سالوں کے لئے کوئی بہتر لائحہ عمل  اپنانا ہوگا۔ خان صاحب کو عوام کی پریشانیوں کو دور کرنا ہوگا اس وقت عوام کی سب سے بڑی پریشانی مہنگائی ہے گویا دوبارہ جنم لینے والی اس حکومت کو اب نئی طاقت اور نئی رفتار کی ضرورت ہوگی ڈھائی سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنا ہوگی گیس بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنا ہوگا۔ آٹا ،چینی، دالوں اور دیگر اشیاء خورد کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہوگا صحت و صفائی کے مناسب انتظامات۔ اور ایسے  تمام بڑے پروجیکٹ جوالتواء کا شکار ہیں  انہیں پایہ تکمیل تک پنچانا ہوگااب حکومت کے پاس موقع ہے کہ جن معاملات میں حکومت پر تنقید ہوتی آئی ہے ان کو قابلِ غور رکھنا ہوگا اب حکومت کے ڈلیور کرنے کے دن ہیں اگر حکومت اب بھی عوام کی امنگوں پر پورا نہ اتر سکی تو آئیندہ الیکشن 2023 PTI کے لئے کچھ اچھا  ثابت نہ ہوگا  اور  پھر یقیناًحکومت کو آئیندہ الکیشن میں مشکلات کا سامنا ہوگا

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close