کالم

"جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔۔

"جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔۔

"خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا۔پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا۔ایک ہی داستان شب ایک ہی سلسلہ تو ہے۔ایک دیا جلا ہوا ایک دیا بجھا ہوا۔”
ذہن کے دریچوں سے نکلتی ہوئی صدائے حق جب عام انسان کا تزکرہ کرتی ہوئی دل کے نہاں خانے میں پیوست ہو جاتی ہے۔تو دل کے دیجور میں سچائی کی کرن ذہن کے دریچوں میں جواب طلب کرتی آوازِ دید سے ہم کلام ہوتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک کالم نگار پڑے ہیں۔ہر کوئی اپنے اپنے تجربات اور مشاہدات کی ٹوکری لیے بیچ رہا ہے۔لیکن جس دن حقائق اور رازوں سے پردہ اٹھ گیا۔وہی دن انقلاب کے آغاز کا دن ہو گا۔سچ کی آواز اور جو دل کی آواز ہوتی ہے وہ ہر کوئی نہ بیان کرسکتا ہے۔اور نہ لکھنے کی جسارت کر سکتا ہے۔اور نہ سننے کی سکت پیدا کر سکتا ہے۔اور نہ کسی دوسرے تک آگے پہنچانے کی ہمت پیدا کر سکتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں جن کا بھوک سے مرنا ہی مقدر ہے ان کیلئے کیا لکھا جائے؟ جن کا کسی بیماری سے ہی مرنا لکھا ہے۔ان کیلئے لکھنا فضول ہے۔جن کو کوڑے کے ڈھیر سے ہی کھانا نصیب ہوتا ہو۔ان کیلئے وہ کیسے آواز بلند کر سکتے ہیں؟ دل کے نہاں خانے سے خاکم بدہن اگر آواز کسی غمزدہ اور مظلوم کے حق کیلئے بلند نہ ہو سکے۔ایسے لکھنے کا کیا فائدہ جس سے کسی مظلوم کیلئے پُر کیف سحر کا امکان ہی پیدا نہ ہو۔ہر کوئی  خِرد سلیم کا مالک اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔لیکن غریب کی گریہ زاری زور و شور سے جاری ہے۔آج میری تحریر کا عنوان تھا۔”جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں ۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے”۔قارئین انگشتِ بدنداں ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔”دیا”یعنی روشنی دینے والا۔ جہالت مطلب اندھیرا۔دیا۔۔۔اندھیرے کا ساتھی کیسے ہو سکتا ہے۔روشنی تاریکی کے ساتھ کیسے اختلاط کر سکتی ہے؟کسی کمرے یا کسی جگہ پر یا تو روشنی ہو سکتی ہے یا پھر دیجور ہو سکتا ہے۔میں اپنے معزز قارئین کو بتانا چاہوں گا کہ ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی بن جائیں۔تو وہ روشنی,دیے کی روشنی صرف گھر ہی جلاتی ہے اور کچھ بھی نہیں۔اس سر زمیں پر بھی ایسے بہت سے چراغ ہیں جو آج کل جہالت کے ساتھی بن کر گھروں کو بھرپور جلانے کی کوشش میں مگن ہیں۔جو اس تاریکی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔جس تاریکی دور میں لوگوں کو حق خوداریت سے محروم کیا جارہا ہے۔کیا عام آدمی کو جینے کا کوئی حق نہیں؟کیا کسی غریب کے بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا کوئی جواز نہیں؟کیا کسی غریب بیمار کا علاج سے پہلے ہی مرنا اس کا مقدر ہے؟کیا زندگی صرف امیروں کیلئے ہے؟کیا بھوک و افلاس سے تنگ والدین اپنی اولادوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کیلئے ہی زندہ ہیں؟کیا تھر میں سسکتے بچوں کیلئے روشن سحر کی کوئی نوید نہیں۔؟۔نہیں۔۔۔کیونکہ دیے ظلمتوں کے ساتھی بن چکے ہیں۔روشنی اپنا کام پورا کر رہی ہے۔۔۔کیونکہ روشنی تو روشنی ہوتی ہے۔اور یہ چنگاریاں پورے زوروشور سے لوگوں کے گھروں کو جلا کر راکھ کر رہی ہیں۔اگر آج ہی اپنے اپنے خانۂ حیرت میں بادِ سموم کا منظر ذہن میں لایا جائے تو کئی لوگ اس کی ذہن میں آنے والی تپش سے ہی جھلس کر اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔لیکن آج ایسا نازک دور ہم پر مسلط ہوا ہے کہ اس وقت کسی کو کسی کی فکر نہیں ہے۔کوئی کسی کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں۔ہر کوئی اپنے آپ کو علم والا سمجھتا ہے اور اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے اپنے علم کی نوعیت کو سب کے سامنے عیاں کر رہا ہے۔اور وہ اس بات کا اقرار بھی کر رہا ہے کہ وہ ہی سب کچھ ہے۔ہر کوئی اپنے آپ کو روشنی کا آخری پروانہ سمجھ رہا ہے۔لیکن اندر ہی اندر جہالت اور ظلمت کے ساتھ مل کر لوگوں کے گھر جلانے سے قاصر نہیں ہے۔ہر کوئی ظالم ہے۔لیکن اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کیلئے ظلم کرنے پر تُلا ہے۔اور مظلوم بن کر مسیحا کے انتظار میں وقت ضائع کر رہا ہے۔میں ہر کسی کی بات نہیں کر رہا۔کیونکہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔میں ان مظلوموں کی بات کر رہا ہوں جو ظالم بن کر مظلوم بن جاتے ہیں۔ان مظلوموں نے تھر کے بچوں کو ابھی نہیں دیکھا۔ان مظلوموں نے ابھی سانحۂ بلدیہ فیکٹری میں جلتے لوگوں کو نہیں دیکھا۔انہوں نے ابھی سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے لوگوں کو نہیں دیکھا۔انہوں نے ابھی سانحۂ ساہیوال کے معصوم بچوں کو نہیں دیکھا۔انہوں نے ابھی پی۔آئی۔سی میں بےبس لوگوں کی ڈرپس اترتے نہیں دیکھا۔انہوں نے ابھی کشمیر اور فلسطین میں تڑپتے لوگوں کو نہیں دیکھا۔کیونکہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ مظلوم کسے کہتے ہیں؟اور وہ خود سب سے بڑے مظلوم بنے ہوئے ہیں۔تو ہاں میں چراغوں کی بات کر رہا تھا کہ جب دیے جہالت کا ساتھ دینے لگ جائیں تو اس سے نکلنے والی روشنی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔وہ کسی بھی وقت آپ کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔ایک وکیل کا کام کسی بےقصور کی وکالت کرنا ہوتا ہے۔اگر کسی بے قصور پر ناجائز مقدمہ بن جائے تو اس کیلئے وہ محافظ ہوتا ہے۔وہ اس کیلئے روشنی کی کرن کے سوا کچھ نہیں۔اگر وہ ہی وکیل۔۔۔وہ ہی دیا۔۔۔وہ ہی روشنی کی کرن اگر ظلمت کا ساتھ دیتے ہوئے یا جہالت سے ہم کلام ہوتے ہوئے کسی بے قصور کو پکڑوانے یا سزا دلوانے یا پھر ہسپتال میں جاکر معصوم لوگوں کو لگی ڈرپس تک اتار لیں۔وینٹی لیٹرز سے بھی مریض اتار لیں۔ماسک تک چھین لیں۔تو یہ کہنا بجا ہے کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے۔ایک ڈاکٹر کا کام لوگوں کی بیماری کو ختم کرکے مریض کو ایک نئی زندگی دینے کی کوشش کرنا ہوتا ہے۔ایک ڈاکٹر ایک نئی زندگی کی روشنی کی کرن ہے۔وہ ایک دیا ہے۔جو کسی مریض کی صحت کو بحال کرنے کیلئے اپنی ساری تگ و دو کر سکتا ہے۔لیکن جب وہی ڈاکٹرز مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے لگ جائیں۔ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر ایلو پیتھک کی میڈیسن استعمال کر کے لوگوں کی زندگیوں کو ختم کرتا چلے۔اور اس کا مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا ہو تو یہ کہنا لازم ہے کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے۔ایک ایماندار افسر کسی بھی ادارے کی پہچان ہوتا ہے۔وہ کسی صورت بھی بدعنوانی برداشت نہیں کرسکتا۔اور نہ کسی صورت کرپشن کر سکتا ہے۔اور نہ ہی کرپشن کرنے والوں کا ساتھ دے سکتا ہے۔وہ ایک ایمانداری کا دیا ہے۔لیکن جب وہی کرپشن کرے بلکہ روکنے کی بجائے مکمل سپورٹ بھی کرے تو سب یہی کہیں گے کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے۔ایک استاد کسی قوم کا معمار ہوتا ہے۔استاد عورت اور مرد دونوں ہو سکتے ہیں۔کسی قوم کا مستقل استاد کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔وہ چاہے اسے آسمان تک پہنچا دے یا چاہے اسے پاتال میں اتار دے۔وہ استاد ہوتا ہے۔وہ نوجوانوں کے اچھے مستقل کیلئے روشنی کا دیا ہے۔چراغ ہے۔اس کا کام نوجوانوں کے مستقل کو جانچ کر اس میں نکھار پیدا کرنا اور تعلیم و تربیت دینا ہوتا ہے۔لیکن جب وہی استاد کسی مسائل کی ذمہ داری لینے سے انکار کررہا ہو۔نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مغربی تہذیب میں ڈھلتے اور ڈھلتی جائیں۔اسلامی اقدار کا جنازہ سرِ بازار رقص کرتا ہوا آگے بڑھتا جائے۔اور وہ اس بات کو بھی جانتے ہوں کہ وہ جہالت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پھر بھی ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی نکھار پیدا نہ کریں۔اور سب کچھ خاموشی سے دیکھتے رہیں تو پھر کہنا واجب ہے کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے۔ایک حکمران۔۔۔ایک عوام کا نمائندہ کسی علاقے کا خادم ہوتا ہے۔اپنے لوگوں کا خادم ہوتا ہے۔لوگوں کو جو مسائل پیش آئیں وہ ان کے مسائل کے حل کیلئے پیش پیش ہوتا ہے۔لیکن جب وہ ہی عوام کا نمائندہ کسی غریب کی مدد کی بجائے چوری کرنے والے ڈاکوؤں کو جیل سے آزاد کروانے کیلئے استعمال ہوں یا اپنی جیب کو پیسوں سے بھرنے کیلئے سرگرم ہوں تو پھر کہنا بجا ہے کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے۔میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے۔جس کا مقصد لوگوں کے مختلف مسائل کو ایوان بالا تک پہنچانا اور غریبوں کی آواز کو وزراء اعلیٰ تک پہنچانا ہے۔لیکن جب یہی دیا۔۔۔یہی روشنی کی کرن۔۔۔غریبوں کی امید کی کرن۔۔۔یہی میڈیا مسائل کو حل کروانے کی بجائے اپنی پہنچ صرف سیاست کی خبروں تک مرکوز رکھے۔اور اسلامی تاریخ کو پیش کرنے کی بجائے مغربی تقلید کی نمائش لوگوں کے سامنے پیش کرتا چلے تو میڈیا کے سامنے کوئی کیا کرسکتا ہے۔صرف اسی صدا کی بازگشت سنائی دے گی کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے۔ایک عالم ہمیشہ ایک عالم ہی ہوتا ہے۔اس کا کام لوگوں کو قرآن و سنت کے مطابق دین کی تعلیم دینا ہوتا ہے۔بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھے رستے پر لانے کیلئے اپنی کوشش کرنا ہوتا ہے۔لیکن جب یہی عالم تعلیم اسلام دینے کی بجائے فرقہ بندی کو ہوا دے۔اور مذہبی تعصب کو اجاگر کرے تو روح تڑپ تڑپ کر کہے گی کہ جب دیے ظلمتوں کے ساتھی ہوں۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے۔۔۔روشنی صرف گھر جلاتی ہے۔روشنی خاموشی سے گھر جلا رہی ہے اور ہم ان جلتے گھروں کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔اتنے دیے ہونے کے باوجود ہم چراغوں کے محتاج ہیں۔اور نہ جانے ہم کس دیے۔۔۔کس مسیحا کی تلاش میں اپنا وقت پاتال کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ہم ان چراغوں کا انتخاب کیوں نہیں کر رہے جو بجھ تو جائیں لیکن جہالت اور ظلمت کے ساتھی نہ بنیں۔ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہو گی۔جب سوچ بدلے گی پھر انتخاب بدلے گا۔اور جب انتخاب بدلے گا پھر ہی نظام بدلے گا۔ہمیں اچھے لوگوں کی قدر کرنا ہوگی۔پھر ہی ہم اپنے اوپر آنے والے خطرناک زوال سے بچ سکتے ہیں۔ تو اس سے بچنے کیلئے ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں۔

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close