کالم

اب تو عوام کی بس ہو گئی ہے

مہربان اگر کوئی ہو تو ہم عام عوام کے دلوں کے درد کی دوا کرے مگر یہاں تو مال مفت دل بے رحم جیسی مثالیں ہمارے سامنے ہیں پلبک کا پیسہ ہے اس پر عیاشیاں ہیں وطنِ عزیز میں عوام ماچس کی ایک ڈبیہ کے خریدنے پر ٹیکس ادا کرتے ہیں  مگر پھر بھی صحت تعلیم اور صفائی جیسی بنیادی ضرویات سے محروم ہے اور دن بدن مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی دہائی کی کس جاہ رسائی ہے؟گزشتہ روز ہونے والی وفاقی کابینہ کی میٹنگ جس میں پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار بھی شریک ہوئےاور جس میں دیگر پارٹی رہنماؤں نے بھی شرکت کی اس اجلاس میں دیگر سیاسی امور کے علاوہ  اشیاء خورد کی قیمتوں پر بھی غور کیا گیا کہ کم کیوں ہیں اور خان صاحب کی طرف سے مختلف اشیا خورد کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ایسےحالات میں غریب سر نہ پٹخے تو کیا کرے ایک طرف ریاست مدینہ کے دعوے عوامی خوشحالی کے دعوے تو دوسری طرف عوام کے اوپر کھال اتارنے کےلیے چھراہے۔ کیونکہ اب بے چاری عوام کی بس کھال ہی بچی ہے مگر شاید حکومت اب ان کی ہڈیاں چبانا چاہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب کسی کو بہت ذیادہ حد تک ناکام ہوجانے کا ڈر ہو اور پھر وہ اچانک کامیاب بھی ہوجائے اور پہلے سے ذیادہ کامیابی حاصل ہوجائے تو بندے کی طبعیت ذرا شوخی قسم  کی ہوجاتی ہے یہی کچھ خان صاحب کے ساتھ ہوا ہے۔ لیکن میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خان صاحب اب شوخے بننے کا ٹائم نہیں اب عوام کے لیے ہمدرد اور مہربان بن کر سوچیں جس طرح آپ کے اوپر مہربانی ہوئی عوام پر بھی اک نظر کر دیں ۔  ملک میں مہنگائی کم کر دیں۔ لاہور جیسے بڑے شہر کو کچرا کنڈی بننے سے بچا لیں۔یہ بات تو  تھی خان صاحب اور ان کی حکومت اور غریب آدمی کی ۔اب ذرا اپوزیشن کی بھی بات ہو جائے جس کا مقصد بھی غریب عوام کی بھلائی نہیں بلکہ اپنے اپنے سیاسی مقاصد ہیں دوغلہ پن اور دوغلی بیان بازی ہمارے سیاست دانوں کا خاصہ ہےایک بات سمجھ سے بالا تر ہے وہ یہ کہ جب اپوزیشن کو الیکشن میں  کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تب جمہوریت جیت جاتی ہے اور جب ناکامی ہوتی ہے تو دھاندلی۔ بیوقوف کس کو بنایا جا رہا ؟     سیاسی وعدے جو اقتدار میں آنے کےلئے کئے جاتے ہیں وہ تو کبھی پورے نہیں ہوتے ہاں البتہ ہر الیکشن میں عوام بیچاری کو ضرور آزمائشوں سے گزنا پڑتا چاہے یہ عام انتخابات ہوں یا پھر کروڑوں روپے والے الیکشن یعنی سینٹ الیکشن غریب مزدور کو کیا پتہ کہ سینٹ الیکشن کیا ہوتا ہے اسے تو بس ٹی وی پر وہ چہرہ نظر آتا ہے جو کبھی اس کے پاس کھل کھلاتا ہوا باچھیں کھول کر حلقے میں ووٹ مانگنے کےلئے آیا تھا اور پھر ممبر منتخب ہوکر اسمبلی میں جا بیٹھا اور ووٹوں کے ذریعے نوٹوں تک پہنچ گیا نوٹ بھی تھوڑے بہت نہیں بلکہ بہت سارے مگر پھر وہ جناب کبھی حلقے میں نظر نہیں آئے۔   بحر حال ہمارے سیاست دان بہت ذہین ہیں ایک ہاتھ سے لیتے ہیں تو دوسرے کو خبر تک نہیں ہوتی اور تو اور نہ جھکیں گے نہ بکیں گے کا نعرہ لگا کر کامیاب ہونے والا امیدوار کب جھکا کب بک گیا بے چاری عوام کو تو اس کی خبر تک نہیں ہوتی گو کہ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر بات عوام تک پہنچ جاتی ہے مگر تب تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے سیاست اک ایسا گورکھ دھندا ہے جو غریب کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اور نہ ہی عام آدمی کو کسی سینٹ کے انتخابات میں کامیاب یا ناکام ہونے والے سے مطلب ہے ۔نہ ہی اسے اعتماد کا ووٹ حاصل کرکے  کامیاب ہونے والے پر اعتماد ہے کیونکہ غریب  اب تک اپنے لیڈروں پر اعتماد ہی تو کرتا آیا ہے جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ غریب کے بچے کے منہ سے نوالہ تک چھن گیا ہے ۔اسے تواپنے بچوں کےلیے  روزگار چاہیے  بس روٹی چاہیے کپڑا اور مکان کا خواب دیکھنا اس چھوڑ دیا ہے اس کا مقصد بس اب دو وقت پیٹ بھرنا ہے کون جیتا یا کون ہارا اس سے اب اس کو ئی مطلب نہیں ۔ غریب کی ہمت اب ٹوٹ رہی ہے اس کے حوصلے پست ہو چکے ہیں اسے کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ جو اس کے دکھوں کا مداوا کرے۔ ان سیاست دانوں سے بس وہ اتنا کہنا چاہتا کہ ہن بس کرو میری تے بس ہوگئی جے  

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close