کالم

سر سبز اور صاف پاکستان۔۔۔۔ہماری ضرورت

سر سبز اور صاف پاکستان۔۔۔۔ہماری ضرورت 

اس موضوع کو سمجھنے کیلئے میں اپنے معزز قارئین کی توجہ سب سے پہلے اس موضوع کے منطق کی طرف لے کر آؤں گا کہ اس موضوع کی نوعیت کیا ہے؟ اور اس موضوع کا ہماری زندگی کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہے۔اور ہمارے ملک پاکستان سے اس موضوع کا کتنا گہرا تعلق ہے۔اس موضوع کے دو حصے ہیں۔پہلا حصہ پاکستان کے سر سبز ہونے کا اور دوسرا حصہ پاکستان کے صاف ستھرا ہونے کا ہے۔اس موضوع کا انسان کی زندگی کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ انسان اس جگہ زندہ ہی نہیں رہ سکتا جس جگہ سے اس کو ذہنی سکون میسّر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس جگہ سانس لے سکتا ہے جب تک اس کے ذہن کو تروتازہ کرنے کیلئے کوئی عکس نہیں ہوتا۔اب میں چلتا ہوں آج کے اپنے عنوان کی طرف۔آپ سب جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ”صفائی نصف ایمان ہے”۔اس پاک فرمان کا مطلب ہے کہ ہمارے دوسرے تمام عمل یعنی نماز, روزہ, حج, زکوٰۃ, صدقہ و خیرات, اور باقی تمام جو دوسرے اسلامی عمل ہیں وہ ایک طرف اور صفائی کا عمل ایک طرف۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صفائی کا کس حد تک ہمارے ساتھ تعلق ہے۔سب سے پہلے تو میں اس جگہ کی بات کرتا ہوں کہ جہاں صفائی کا ہونا بہت ضروری ہے اور ہمارے گھروں کے باہر لگے کچرے کے ڈھیر اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ہم صفائی پسند نہیں ہیں۔اور یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم اس فرمان کو بھی بھول گئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔یہ آلودگی ہمیں مکمل طور پر بیکار کر رہی ہے۔ہم پر حملے کر رہی ہے۔کینسر, ہائی بلڈ پریشر, کھانسی, دمہ, اس کے مہلک ہتھیار ہیں۔ہیپاٹائٹس, الرجی اور ٹی۔بی آج کل اس کے ابھرتے ہوئے سٹار ہیں۔جو کسی صورت بھی اپنے حملوں کی رفتار آہستہ کرنے کا نام نہیں لے رہے۔کیونکہ ان مہلک بیماریوں کا مقابلہ کرنے والے ہتھیار ہم اپنے ہاتھوں سے فنا کررہے ہیں۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہمارے اندرونی سسٹمز کیلئے زہریلا مادہ ہے۔اس دھوئیں کا مقابلہ کرنے والے ہتھیار کو ہم دھواں بنا رہے ہیں۔یہ آلودگی بڑی آسانی سے ہمارے جسم میں داخل ہو رہی ہے۔یہ جو پانی ہم پیتے ہیں یہ ہمارے گھروں کا سیوریج ٹھیک نہ ہونے کی صورت میں صاف پانی کو گندا کر رہا ہے۔اور یہ گندگی اس پانی میں داخل ہو کر ہمیں یرقان کا مریض بنا رہی ہے جس کا اختتام موت کے سوا کچھ نہیں۔ ان آلودگی, گندگی, اور کچرے کے ڈھیروں کو جلا کر ہم بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اس بات کا ہمیں معلوم نہیں کہ یہ جلا ہوا کچرا اتنا مضرِ صحت ہے کہ یہ ہماری سانسیں بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔معزز قارئین۔اس آلودگی جو ہماری فضا کو دن بدن آلودہ سے آلودہ کر رہی ہے اور ان خطرناک جان لیوا بیماریوں سے بچنے کیلئے ہمیں اپنے ہتھیاروں کو کاٹنے کی بجائے ان ہتھیاروں سے حملہ کرنا ہو گا۔اور وہ ہتھیار اللہ تعالیٰ کی خوبصورت نعمت درخت ہیں۔ان درختوں سے نہ صرف ہم ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ ان کو ختم بھی کر سکتے ہیں۔معزز قارئین۔درخت ہمارے زندہ رہنے کا ایک ذریعہ ہیں۔درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں جس سے ہم سانس لیتے ہیں۔اگر یہ کم و بیش درخت بھی نہ ہوں تو اس آلودہ ماحول میں ہمارا ویسے ہی دم نکل جائے۔درخت آکسیجن پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آج کے دور میں کرپشن, چوری, عدم مساوات اور بےروزگاری سے بڑا مسلہ زمینی آلودگی اور فضائی آلودگی بن چکا ہے۔اور اس کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔اس وقت پاکستان کی آبادی تقریباً بیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔اگر ہر شہری ایک بھی پودا سنت سمجھ کر لگائے تو پاکستان کا ماحول بدل سکتا ہے۔میں اپنے معزز قارئین کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس سے بڑا بے حسی کا ثبوت کیا ہو سکتا ہے اگر ضرورت کے وقت بھی ضرورت کی چیز کو نہ تلاش کیا جائے اور جو چیز موجود ہو اس کو ضرورت کے وقت ضائع کر دیا جائے۔جنگلات کی کٹائی کا نقصان ماحولیاتی آلودگی, زمینی کٹاؤ, بارشوں میں کمی, سیلاب, گلوبل وارمنگ میں اضافہ, اوزون لیئر کا مسلسل کم ہونا, اور لینڈ سلائیڈنگ کی صورت نظر آرہا ہے۔جنگلات فصلوں کو بھی موسم کی سختیوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ جنگلات کی ہی وجہ سے آج اوزون لیئر بچ سکتی ہے۔جو دں بدن زہریلے دھوئیں کی وجہ سے ختم ہو رہی ہے۔موجودہ دور میں پاکستان کا ماحول جس قدر آلودہ ہو چکا ہے۔ٹریفک کے دھوئیں اور شوروغل نے کئی ایسے مسائل کھڑے کر دیے ہیں کہ جن کا حل صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔کیونکہ درخت ہی ماحول کی آلودگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم درخت لگا رہے ہو اور قیامت آگئی ہو تو تم پھر بھی درخت لگاتے رہو۔اس فرمان سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ درخت لگانے کا کتنا اجر عظیم ترین ہے۔صفائی اور شجر کاری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک مضبوط اور مربوط مہم کی ضرورت تھی۔امید ہے یہ جو مہم وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے شروع کی ہے اس کے بہت اچھے ثمرات ملیں گے۔اور یہ مہم پاکستان میں پیش آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پا لے گی۔اور پاکستان کو سرسبز اور صاف انشااللہ ضرور بنائے گی۔ضرورت صرف اس وقت اس مہم میں اپنا اپنا حق ادا کرنے کی ہے۔

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close