کالم

ہم تو ٹینکوں کی صفیں،چیر دیا کرتے ہیں

ہم تو ٹینکوں کی صفیں،چیر دیا کرتے ہیں…

وہ تاریکی رات جب دشمن خاموشی سے پاکستان پر حملے کی سازشیں تیار کررہا تھا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک ایسی قوم سے مقابلہ کرنے کی غلطی کر رہا ہے جو دن میں تارے دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ اس بزدل بھارت کا گماں تھا کہ وہ پاکستان پر حملہ کر سکے گا لیکن گمان اگر الٹا پڑ جائے تو اس کا تماشہ پوری دنیا میں بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔پاکستان پر حملہ کرنے کا خواب دیکھنے والے اور جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو تاریکی رات میں تاریخی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنے کے دو برس مکمل ہو گئے ہیں۔ستائیس فروری دو ہزار انیس کو پاک فضائیہ نے دن کے اجالے میں بھارتی فوج کو منہ توڑ جواب دیا اور اس کے دو طیارے مار گرائے۔بھارتی فوج نے بالاکوٹ میں رات کے وقت بزدلانہ فضائی بمباری کی،جس کے نتیجے میں پاکستان نے اپنے کچھ قیمتی درختوں کو ہمیشہ کے لئے کھو دیا۔اگلی ہی صبح ستائیس فروری کو دن کی روشنی میں پاک فضائیہ نے بھارت کو یادگار سرپرائز دیا۔اسی سرپرائز آپریشن کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔بھارتی ائیر فورس کا پائلٹ ابھینندن سبھی بھارتی لوگوں کی آنکھوں میں ہیرو بننے کا سپنا سجائے پاکستان کی حدود میں داخل ہوا تو پاک فضائیہ نے بھارتی پائلٹ کے طیارے کو مار گرایا وہیں ابھینندن کے ہیرو بننے کے سپنے بھی چکنا چور ہو گئے۔ایک جانب تو پاک فوج نے پاک سرزمین پر داخلے کی کوشش پر بھارت کے دو طیارے مار گرائے تو دوسری جانب بدحواس بھارتی فوج نے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو مار گرا کر اپنی ناکامی کا ثبوت دے دیا۔معزز قارئین۔پاک فوج اس وقت مکمل کسی بھی ملک کی، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔اور پاک فوج نے ستائیس فروری دو ہزار انیس کو اپنے تمام دشمنوں کو خبردار کر دیا کہ پاکستان میں ایک ایسی قوم بستی ہے کہ جس کا ایک ایک فرد جذبہ شہادت سے سر شار ہے۔جو ابل پڑے تو مانند شرر فشاں دشمن پر برس پڑے اور دشمن کو تاریخ کی پرانی سطریں بنا دے اور اس بات پر جو شک کرتے ہیں ان کا شک دور ہونا چاہئے کہ۔۔۔
تختہ و تخت میں سے ایک چنا کرتے ہیںہم عجب شان سے دنیا میں جیا کرتے ہیںتوپ کیا چیز ہے,بندوق کسے کہتے ہیں ہم تو ٹینکوں کی صفیں چیر دیا کرتے ہیں
بھارت کو کسی بھی سرجیکل اسٹرائیک یا خطے میں انتشار پھیلانے سے پہلے اپنے ساتھ ہونے والے دو دو ہاتھوں کو ذہن میں لانا بہت ضروری ہے۔پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی بات کی اور بھارت نے اس کا کچھ اور مطلب سمجھا۔آج پاکستان کا بچہ بچہ اپنی پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔بھارتی وزیر اعظم بھی ابھینندن کی طرح کسی خوش فہمی میں مبتلا ہے۔اس کو کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے 1965ء میں ہونے والے اپنے انجام کے بارے صرف اور صرف ایک بار ضرور سوچنا چاہئے تاکہ بعد میں کوئی مسلہ نہ بنے۔١٩٦٥ میں بھی بزدل بھارت لاہور پہنچنے کے خواب دیکھ رہا تھا لیکن چونڈہ میں بھارتی ٹینکوں کا جو قبرستان بنا اس نے بھارتیوں کی نیندیں اچاٹ کر کے رکھ دی،اور اقوام متحدہ میں بیٹھے ان فتنہ گروں کو دانتوں میں انگلیاں چبانے پر مجبور کر دیا۔ستائیس فروری ہمت و جرأت و بہادری کی داستان کا پاکستانی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔تمام پاکستانی قوم کو اس پر فخر کرنا چاہئے.

google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close