کالم

"سینٹ الیکشن اور ارکان سے ایمانداری کا حلف”

"سینٹ الیکشن اور ارکان سے ایمانداری کا حلف”پاکستان میں ضمیر فروشوں کی کمی نہیں ہے یہاں پر مال کی خاطر اپنا ایمان تک بیچنے والے موجود ہیں بات اگر وطنِ عزیز کے سیاست دانوں کی کریں تو وہ مال بنانے اور ضمیر فروشی میں نمبر ون پوزیشن پر ہیں اس وقت سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے سیاسی ماحول کی گرما گرمی میں مزید اضافہ ہوچکا ہے 2021ء کے چیئرمین سینٹ کے انتخابات کے لیے تمام سیاسی پارٹیاں سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہیں اور یہ کوششیں جاری ہیں کہ ان کا حمایت یافتہ یا ان کی سیاسی جماعت سے وابستہ سینیٹر چیئرمین سینٹ کے عہدے پر براجمان ہوسکے۔ سینٹ کے حالیہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کی پوزیشن واضع ہونے کے باوجود وقت بتائے گا کہ کون سی سیاسی جماعت چیئرمین سینٹ کا قرعہ اپنے نام نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے الیکشن کمیشن نے سینٹ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے بیان حلفی لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔بیان حلفی میں امیدوار ٹکٹ پر پیسے نہ لینے کی یقین دہانی کرائے گا ۔الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ امیدوار نے اگر پارٹی ٹکٹ سے متعلق رقم دی ہے تو وہ الیکشن کمیشن کو اس سے آگاہ کرے گا امیدوار ووٹ کی خریدو فروخت کے لیے کسی بھی طرح رقم استعمال نہ کرنے کی تحریری طور پر یقین دہانی کروائے گا ۔امیدوار انتخاب میں کرپٹ پریکٹس، آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے کا بیان حلفی جمع کرائے گا ۔یہ تو ہوگیا الیکشن کمیشن کا اقدام جو کہ سینٹ الیکشن میں متوقع کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیان حلفی لینے ہارس ٹریڈنگ رک جائےگی؟ کیا لاچی ضمیر فروش ووٹوں کی خرید و فروخت روک دینگے ؟ اگر محض بیان حلفی لے کر ہی ان سیاست دانوں پر الیکشن کمیشن ایماندار رہنے اور سینٹ الیکش کو شفاف بنانے کی امید لگائے تو یہ کسی خواب سے کم نہیں  کئی ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے منتخب نمائندوں کی تعداد بہت کم ہے اور وہ ایک سینیٹر بھی منتخب نہیں کر سکتے مگر ملک کی عوام کو بیوقوف بنانے پر تلے ہوئے ہیں ہمارے ہاں سینٹ میں کھرب پتیوں کو ٹکٹ دینے کی روایت ہے جو کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں۔ مقصد قانون سازی میں بھی مالی وسائل جمع کرنا ہے۔ یہاں پر سب اپنے مفادات کی جنگ لڑتے ہیں عوام کی تکلیفوں کا کسی کو احساس نہیں بس طاقت اور اختیارات ہونے چاہئیں چاہے یہ طاقت اور اختیارات غلط طریقے سےحاصل کیے جائیں اور پھر ان اختیارات کا استعمال بھی غلط طریقے سے کیا جائے اس بات سے ان سیاستدانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں اس بحث میں نہیں جاتا کہ کس سیاسی جماعت نے کیا کیا۔ کس کے ووٹر بکے اور لوٹا بنے اور کن جماعتوں نے انہیں خریدا اور کتنے کا خریدا لوٹا بنایا تو کیوں بنایا مقصد کیا تھا۔ بظاہر یہی مقصد نظر آرہا ہے جس کے لیے الیکشن کے نتیجے کے بعد جس چیز کے لیے سیاسی جماعتوں میں ہلچل شروع ہو چکی ہے یعنی ایوان بالا پر اس کے توسط سے حکمرانی کو قائم رکھا جا سکے۔ انفرادی طور پر اراکین ووٹر بکے ان کا مقصد مفاد تھا وہ بھاری رقم یا اقتدار میں مراعات اور سینیٹر بن جانے والے جنہوں نے بھاری رقم دے کر ووٹ خریدے کیا ان کے دل میں عوام کا درد ہے ؟ عوام کی خدمت کا جذبہ ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اگر انہوں نے پچاس کروڑ خرچ کئے تو اس سے دس گنا زیادہ کمائیں گے اور افسوس یہی سیاسی جماعتیں جو اس کاروبار میں شریک ہوتی ہیں نظام کو بدلنے کی بات کرتی ہیں تبھی تو عوام میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے سربراہوں کو سنجیدگی سے ملک و قوم کی بقا کی خاطر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی مضمر ہے با شعور پاکستانی عوام کی چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے رائے یہ کہ چیئرمین سینٹ کا انتخاب کسی بھی پارٹی سے ہو اس سے عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں مل سکتا اور نہ ہی چیئرمین سینیٹ کا کردار ماضی میں قانون سازی کے حوالے سے سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل رہا ہے اسی لئے تو عوام سینٹ الیکشن کے حوالے سے بے نیاز اور عدم دلچسپی کے مظاہرے میں مصروف ہے عمران خان نے کہا کہ اوپن بیلٹ ہارس ٹریڈنگ روکنے کا ذریعہ ہے یہ بات سچ ہے اگر گزرے سینیٹ انتخابات کی بات کریں تو اس حوالے سے عمران خان بالکل صحیح تھے اور سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہونی تھی میڈیا کے دباؤ  اور ہمیشہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے واویلے سے لوگ ہارس ٹریڈنگ سےپیچھے ہٹ جاتے تھے جیسا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پر عمران خان کا دباؤ تھا کہ ہارس ٹریڈنگ نہ کر سکیں جبکہ تحریک انصاف  میں کچھ بکنے والے لوگ موجود تھے ۔ اور اب بھی تحریک انصاف کے اندر بکاؤ مال کی باتیں ہو رہی ہیں ۔کچھ دن پہلےPP.185 سے تحریک انصاف کے ایم پی اے خرم سہیل لغاری نے تحریک انصاف چھوڑنے کا پیغام جاری کیا کہ عثمان بزدار کا پنجاب ڈیرہ غازی خان تک محدود ہے  اور عمران خان کو یوتھ نے پی ایم پاکستان بنایا مگر ان کی نگاہ میں یوتھ کی کوئی عزت ہی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حلقے میں کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے میں تحریک انصاف چھوڑ رہا ہوں اور میرے ساتھ پانچ اور ایم پیز بھی ہیں تو سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے تبصرے کرنے سے شروع کر دیے  کہ لغاری خاندان کا سیاست میں دور ختم ہوا چاہتا ہے مگر کپتان کی ٹیم کے اہم کھلاڑی چنوں خاں لغاری نے بیٹنگ سنبھالی اور ایسی شاٹ کھیلی کہ خود عمران خان نے سردار خرم کو ملاقات کے لیے بلا لیا اور ان کے سارے گلے شکوے دور کرانے کی یقین دہانی کرائی ملاقات کے وقت وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری موجود تھے عمران خان کے احکامات کے مطابق خرم سہیل لغاری نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے بھی ملاقات کی اور تمام گلے شکوے دور ہو گئے  اس کے علاوہ اور کئی ایم پی ایز کے بکنے کی ویڈیوز لیک ہوئیں ہیں اب جب پارٹی کے وزیر مشیر جو اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا چاہ رہے تھے اور پیسے بنانا چاہ رہے تھے ایسے حالات میں قوم یہ توقع کیسے رکھ سکتی ہے کہ چیئرمین سینٹ کا انتخاب شفاف ہو گا ۔ سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستانی سیاست کے گھاگ سیاستدان مولانا فضل الرحمان نے اس بار بھی کارڈ کھیلتے ہوئے نون لیگ سے ڈیل کر لی ہے۔ چیئرمین سینیٹ انتخاب میں میں ٹکٹ پکتے ہیں جب کہ ہمارے ملک میں ارکان بک رہے ہیں سینٹ کے ٹکٹ بکنگ کا انکشاف کوئی نئی بات نہیں بلکہ اکثریت جانتی ہے کہ سینیٹ میں پیسوں کے عوض ممبران خریدےاور بیچے جاتے ہیں تو پھر عوام الناس کے پیسے پر انتخابات کا ڈرامہ رچانے کی کیا ضرورت ہے سیدھے سیدھے ارکان خریدے جائیں اور حکومت قائم کرکے ملک کا صحیح معنوں میں بیڑا غرق کیا جائے خیر جو بھی ہو ،جس سیاسی جماعت کا بھی چئیرمین سینٹ منتخب ہو اللہ اسے ہدایت نصیب کرے۔ اور وہ ملک کے اعلیٰ ترین ایوان میں بیٹھ کر بہتر طور پر قانون سازی کر سکے جو ملک و قوم کی بہتری کے  لیے ہو 

Mahmood Masood <mahmoodnizami143@gmail.com>
google.com, pub-9821533189288546, DIRECT, f08c47fec0942fa0
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close